تحریک انصاف کی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشن کی مخالفت

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور پے رول پر رہا کر کے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقا دکیا جائیگا،اپوزیشن جماعتیں
گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کیا جائے، حکومت رات کی تاریکی میں پارلیمنٹ پر شب خون مارتے رہے، 26ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی،اپوزیشن لیڈر
ہم اس ناجائز پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کی دعوت پر کیسے جائیں،آپریشن بربادی کا راستہ ہے، محمود خان اچکزئی
کسی بھی ملک میں حالات خراب ہونے پر پارلیمنٹ آگے بڑھتی ہے اور راکین مشترکہ طور پر فیصلے کرکے ملک کو بحرانوں سے نکالتے ہیں،علامہ راجہ ناصر عباس
پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے ہم پر جو حملے کئے گئے ہیں وہ افسوسناک ہے ،بانی پی ٹی آئی کے بغیر پاکستان میں استحکام ممکن نہیں ،سلمان اکرم راجہ ودیگر رہنماؤں کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(آن لائن) پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے بلوچستان اور خیبر پختونخوا ہ میں فوجی اپریشن کی مخالفت کردی ،پارٹی رہنماوٴں کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کی اجازت دی جائے اور اسے پے رول پر رہا کرکے تما م سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔منگل کو اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہمارے ایم این ایز اور سینیٹرز جب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے جاتے ہیں تو سپرنٹنڈنٹ جیل انہیں اجازت نہیں دیتا ہے یہ آئین کی خلاف ورزی ہے قوی اسمبلی کا ممبر کسی بھی جیل کا دورہ کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو وارننگ دیتے ہیں کہ جو بھی ذمہ دار ہیں اس کو ان غلطیوں کا حساب دینا ہوگا انہوں نے کہاکہ کیا ایم این اے کسی سازش میں ملوث ہیں حکومت اعلان کرے کہ بانی پی ٹی آئی خطرناک آدمی ہیں اس سے ملاقات نہیں ہوسکتی ہے وہ اس پارٹی کا لیڈر ہے

جس نے اکثریتی الیکشن جیتا ہے انہوں نے کہاکہ ہم اس ناجائز پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کی دعوت پر کیسے جائیں ہم نے تحریک انصاف سمیت دوسروں کو یہ کہا ہے کہ یہ ہمیں پھنسانے کی سازش ہے یہ اپریشن بربادی کا راستہ ہے ہم فورسز کو کہتے ہیں کہ اپریشن نہ کریں کہ بربادی لاتے ہیں اس وقت ملک کمزور ہے انہوں نے کہاکہ ہم کیوں ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ کوئی اور ہمارے ملک کو خراب کرے انہوں نے کہاکہ اس موقع پر ملک میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور اس میں بانی پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو بلایا جائے اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ کسی بھی ملک میں حالات خراب ہونے پر پارلیمنٹ آگے بڑھتی ہے اور راکین مشترکہ طور پر فیصلے کرکے ملک کو بحرانوں سے نکالتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں مینڈیٹ چوری کرکے ملک کو مذید بحرانوں میں دھکیلا گیا ہے عوام اس حکومت سے متنفر ہے عدلیہ کا راستہ بند کردیا گیا ہے پارلیمنٹ سے لوگ اغوا کئے جاتے ہیں اور کسٹوڈین اس کی حفاظت نہیں کرسکتا ہے انہوں نے کہاکہ ان حالات میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں اس پر بحث ہونی چاہیے اور پارلیمنٹ کی مشاورت سے اگے نکلنے کا راستہ بنانا چاہیے انہوں نے کہاکہ بعض مخصوص حالات میں جیل سے قیدیوں کو پے رول پر نکالا جاتا ہے اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کئے بغیر کوئی بھی فیصلہ عوامی فیصلہ نہیں ہوسکتا ہے اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ہماری رائے ہے کہ پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے ہم پر جو حملے کئے گئے ہیں وہ افسوسناک ہے پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کے بغیر پاکستان میں استحکام ممکن نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی پولیٹکل کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائیں گے اس وقت تک کسی بھی انہوں نے کہاکہ ملٹری اپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے تاہم اگر کوئی بندوق لیکر سامنے کھڑا ہے تو اس کا مقابلہ بندوق سے کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ ہم کسی ایسے عمل کاحصہ نہیں بنے گے جو ملک کو تباہی کی سمت لیکر جائے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے مشترکہ اجلاس بلانے کی ضرورت ہے اور قومی جرگہ ہونا چاہیے جس میں خطے کے حقیقی وارث موجود ہوں انہوں نے کہاکہ ہم نے اس پورے خطے کو معاشی سطح پر بحالی کی سمت لیکر جانا ہے

انہوں نے کہاکہ 77سالوں سے بلوچ عوام کے ساتھ گفتگو نہیں کی گئی اب کرنی ہوگی انہوں نے کہاک ملٹری اپریشن کے زریعے سب کچھ ٹھیک نہیں کیا جاسکتا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو پے رول پر رہا کیا جائے اور ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ہماری سوچ واضح ہے ہماری مشاورت ہوئی اس مسئلے کا حل ایک بڑے قوی ڈائیلاگ میں ہے ، انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ فوری طور پر ملاقات کرائی جائے اور ہم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی مگر ہماری سوچ واضح ہے اور ہم نے مشاورت کی ہے اگر یہ نہیں ہوتا تو باقی سب دھوکسلہ ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان کی یکانگت کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے ہم نے اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے اس ملک کو فسطائیت کے زریعے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا ہے جو اس وقت برپا ہے اس موقع پر صاحبزادہ نے کہاکہ ہم نے اسی کمرے میں مطالبہ کیا تھا کہ ان کیمرہ سیشن بلایا جائے اورہم نے تمام پارلیمنٹیرینز کی بات کی تھی صرف مخصوص ایم این ایز کی بات نہیں کی تھی انہوں نے کہاکہ اگر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ایم این اے اس فورم پر موجود نہ ہوں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ کل ایک مشروط خط لکھا گیا پہلے پاکستان کے صحافیوں کے ساتھ افطاری کا پروگرام تھا اس کے بعد سیاسی کمیٹی کا اجلاس تھا اور اگر سیاسی کمیٹی اس کی منظوری دے گی تو پھر شرکت کریں گے اور رات کو کمیٹیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ایک تو پاکستان کے حقیقی نمائندوں کو نہ بلانے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر ہم اس پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی جانب سے خط لکھا گیا کہ ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے انہوں نے کہاکہ حکومت رات کی تاریکی میں پارلیمنٹ پر شب خون مارتے رہے اور 26ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ گرینڈ نیشنل ڈائلاگ کی جائے اور بانی پی ٹی آئی کی عدم شمولیت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی سمیت تحریک تحفظ آئین پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری کے بغیر اپ کو خیبر پختونخوا میں اپریشن کامیاب نہیں کراسکتے ہیں یہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کامعاملہ اسے ذاتی مسئلہ نہ بنائیں اور پاکستان سے سب سے مقبول لیڈر اگر جیل میں ہوگا تو آپ کو عوامی سطح پر کوئی مقبولیت اور سپورٹ نہیں ملے گی اور ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اپریشن سے پہلے تمام افراد سے مذاکرات کرائے جائیں اور اس حوالے سے گرینڈ جرگے تشکیل دئیے جائیں انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی وہ سورج ہے

جس پر پوری قوم نے اعتماد کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ دو روز میں غیر ضروری قیاس آرائیاں کی گئیں یہ جو قیادت ہے اس کے پاکستان میں کوئی سٹیک نہیں ہے یہ تو جہاز پکڑ کر نکل جائیں گے انہوں نے کہاکہ ہم سب پر نااہلی کی تلواریں لٹک رہی ہیں اور ہم پر درجنوں کیسز ہیں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا ہے بانی پی ٹی آئی کو پیرول پر رہا کیا جائے ،سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ لیڈر شپ نے باتیں کر لی ہیں پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کی غیر موجودگی اور اس لیڈر سے مشورہ نہ کرنے دینے کامقصد عوام کی حمایت سے اپنے آپ کو محروم کرنا ہے انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی کو مشورہ نہیں کرنے دیا گیا لہذا ہم اس میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہاکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس کا بلانا اور اس پر پی ٹی آئی کے بانی کے ساتھ مشاورت نہ کرنے دینا بہت بڑی زیادتی ہے اور ہم نے اس کو مسترد کردیا ہے اور ہم اس کا بائیکاٹ کریں گے انہوں نے کہاکہ میں اس حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا تھا اہم کئی بار عدالتی احکامات پر ملنے کیلئے گئے مگر ہمیں نہیں ملنے دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس اچانک بلانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کو اپنے لیڈر سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے تو کیا اس صورت میں کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے اسی وجہ سے بائیکاٹ کیا ہے عمر ایوب خان نے کہاکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ہم نے سپیکر کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا کہ ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا وفاق کی اکائی کی حیثیت سے شرکت کریں گے اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کہاکہ کسی بھی ادارے کے سربراہ کے ساتھ مشاورت نہ ہونے کی صورت میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔

Comments are closed.