پاکستان کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، آئی ایم ایف کا اعلامیہ

واشنگٹن(آن لائن)پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ہے،بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کی قیادت نیتھن پورٹر نے کی، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت ایک ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔18 ماہ کے دوران پاکستان نے چیلنجز کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں پیش رفت کی ہے، اعلامیہ میں کہاگیا کہ ے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد موسمیاتی تبدیلی کیلئے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر ملیں گے،ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی قرض پروگرام کے تحت پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی تبدیلی اور ای ایف ایف کی قسط ملا کر پاکستان کو 2 ارب ڈالر ملیں گے،قرض پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان کو پبلک ڈیٹ سے کمی آ سکے گی،سخت معاشی نظم و نسق سے مہنگائی کی شرح کنٹرول کی جا سکے گی، قرض پروگرام پر عملدرآمد سے توانائی شعبے کے نرخوں میں کمی آ سکے گی،قرض پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان کی معاشی گروتھ بڑھے گی،پاکستان کو سماجی تحفظ، تعلیم اور صحت کے شعبے پر بجٹ بڑھانا چاہیے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے نیا قرض پروگرام معاون ثابت ہو گا،ریزیلینس اینڈ سسٹین ابیلیٹی فیسلیٹی قرض پروگرام سے قدرتی آفات سے نمٹنے میں مدد ملے گی،پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے بجٹ ایلوکیشن بڑھانے کی ضرورت ہے،

اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اہداف حاصل کیے ہیں، پاکستان نے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کے نفاذ میں اصلاحات کیں، یکم جولائی 2025 سے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی یقینی بنانا ہوگی، سرکاری اخراجات میں شفافیت پاکستان ایکیوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم نافذ کیا جائے گا، مانیٹری پالیسی سے اسٹیٹ بینک کو مہنگائی کنٹرول رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، توقع ہے کہ مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد محدود رہے گی، آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں افراط زر 2015 کے بعد سے کم ترین سطح پر ہے، پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور مزید بہتری کی توقع ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس پروگرام کے تحت حاصل رقم مجموعی طور پر2 ارب ڈالرہوجائے گی، اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان معاشی استحکام کے لیے ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے۔آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام نے نہ صرف توسیع فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پہلے جائزے پر عمل درآمد کے حوالے سے اتفاق کیا ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک نئے ’ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلیٹی فیسلٹی‘ (آر ایس ایف) معاہدے پر بھی بات چیت مکمل کر لی ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام پر موٴثر عمل درآمد جاری ہے اور حکومت مالیاتی خسارے کو بتدریج کم کرنے، پبلک ڈیٹ کو پائیدار سطح پر رکھنے اور سخت مانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے پْرعزم ہے۔اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں ایسی اصلاحات کی جا رہی ہیں جو لاگت میں کمی لاکر اس شعبے کو مستحکم بنانے میں مدد دیں گی

، جبکہ معاشی ترقی کے لیے حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کو بھی مزید تیز کیا جا رہا ہے۔نئے آر ایس ایف معاہدے کے تحت پاکستان کو قدرتی آفات کے خلاف مزاحمت بڑھانے، بجٹ اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں بہتری لاکر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، پانی کے موٴثر اور پیداواری استعمال کو یقینی بنانے، موسمیاتی خطرات کے تجزیے کے لیے معلوماتی ڈھانچے کو مستحکم کرنے اور توانائی کے شعبے میں ایسی اصلاحات متعارف کرانے میں مدد ملے گی جو ماحولیاتی تحفظ کے اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے تحت نہ صرف معیشت کی بحالی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں مالیاتی خودمختاری کے اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں گے۔

Comments are closed.