27 مارچ سے پشاور سے کوئٹہ جعفر ایکسپریس روانہ ہوگی۔ پرسوں کوئٹہ سے پشاور کیلئے روانہ ہوگی۔ 29 مارچ کو عید کے لیے اسپیشل ٹرین کوئٹہ سے روانہ ہوگی۔ عید کے پہلے 3 دنوں میں مسافروں کیلئے 20 فیصد رعایت رکھی گئی ہے، وِفاقی وزیر ریلوے
دشمن نے فرقہ واریت، لسانیت اور محرومی کو بہانہ بنا کر دہشتگردی کو پروان چڑھایا، پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کیساتھ سازش کی جارہی ہے، دشمن کو معلوم ہے وہ پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتے ہم نیوکلیئر پاور ہیں۔ ہم صوبائیت اور قومیت کے نعروں کی مذمت کرتے ہیں،پریس کانفرنس
کوئٹہ(آ ن لائن) وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ 16 روز بعد کوئٹہ سے ٹرین سروس بحال کررہے ہیں27 مارچ سے پشاور سے کوئٹہ جعفر ایکسپریس روانہ ہوگی۔ پرسوں کوئٹہ سے پشاور کیلئے روانہ ہوگی۔ 29 مارچ کو عید کے لیے اسپیشل ٹرین کوئٹہ سے روانہ ہوگی۔ عید کے پہلے 3 دنوں میں مسافروں کیلئے 20 فیصد رعایت رکھی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد دورہ کوئٹہ کے دوران کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر چیئرمین ریلوے مظہر علی شاہ ، سی ای او امیر بلوچ ، ڈی ایس ریلوے عمران حیات سمیت دیگر ریلوے آفیسران بھی موجود تھے۔ قبل ازیں انہوں نے کوئٹہ ریلوے سٹیشن کا دورہ کیا۔چیئرمین مظہر علی شاہ اور سی ای او ریلوے امیر بلوچ بھی وفاقی وزیر کے ہمراہ تھے۔
وفاقی وزیر ریلوے اور دیگر حکام نے حملے سے متاثرہ جعفر ایکسپریس کی بوگیوں کا معائنہ کیا۔وفاقی وزیر ریلوے نے بتایا کہ بولان ایکسپریس اب روزانہ کی بنیاد پر چلائی جائے گی جو پہلے ہفتے میں 2 دن چلتی تھی۔ بلوچستان سے اب 3 کی بجائے 9 مسافر ٹرینیں چلائیں گے تاکہ لوگوں کو بہتر سفری سہولیات مہیا کرسکیں ریلوے اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے مسائل ہیں، ریلوے پولیس میں 500 نئی بھرتیاں کی جائیں گی جن میں 70 فیصد کا تعلق بلوچستان سے ہوگا۔ اگلے مرحلے میں 1 ہزار مزید افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔حنیف عباسی نے کہا کہ سانحہ جعفر ایکسپریس پر بہت افسوس ہے۔ تمام دنیا نے سانحہ جعفر ایکسپریس کی مذمت کی۔ جعفر ایکسپریس میں مقامی سطح پر سہولت کاری ہوئی۔ معصوم بچے، عورتوں، جوان اور بزرگوں کو نشانہ بنایا گیا۔وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے مہارت سے نہتے مسافروں کی زندگی کو محفوظ بنایا، فوجی جوانوں کو سلیوٹ اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جنہوں نے یرغمال بنائے جانے والے لوگوں کو بحفاظت آزاد کرایا انہوں نے کہا کہ دشمن نے فرقہ واریت، لسانیت اور محرومی کو بہانہ بنا کر دہشتگردی کو پروان چڑھایا۔ پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کیساتھ سازش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمن کو معلوم ہے وہ پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتے ہم نیوکلیئر پاور ہیں۔ ہم صوبائیت اور قومیت کے نعروں کی مذمت کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے ہونے کے ناطے پہلی بار لیکن بطور سیاسی کارکن یہاں کئی بار آچکا ہوں۔ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی جو ادا کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ دشمنوں کو معلوم ہے کہ انہیں شکست نہیں دے سکتے، دشمنوں نے کبھی فرقہ وارانہ تو کبھی قومیت کی بنیاد پر دہشتگردی کی۔ سیکیورٹی اداروں سمیت ریلوے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ کمانڈوز اور فوجی جوانوں نے پروفیشنل اور ماہرانہ انداز میں آپریشن میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کا خاص کرم ہوا، بہت بڑے نقصان سے بچ گئے۔ ریاست نے ہر سطح پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ دہشتگردی کا ہر فورم پر مقابلہ کریں گے۔ کبھی کسی نے نہیں سنا راولپنڈی میں کسی بلوچ کو مارا گیا ہو جانتے ہیں بلوچ پنجاب یا پنجابیوں کے خلاف نہیں چند عناصر ان کا نام استعمال کرکے دہشتگردی کرکے نفرت پھیلاتے ہیں۔ نام نہاد دانشور جو فوج پر تنقید کرتے ہیں کیا اپنے لخت جگر رقم لیکر دے سکتے ہیں اب فیصلہ ہوا ہے کہ اب جہاں بھی دہشتگرد جائے گا اس کا پیچھا کیا جائے گا کسی بلوچ سندھی پشتون کو صوبائیت کی بنیاد پر نہیں مارا جاتا 50فیصد سے زائد بلوچ سندھ پنجاب میں ہیں لیکن نفرت کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ریلوے اسٹیشن پر سیکورٹی کے ایشوز ہیں اس لئے 1500 لوگوں کوبھرتی کیا جارہا ہے ۔ریلوے کارگو اور پرانی ریل گاڑیاں بھی بحال کرینگے ریلوے کی پراپرٹی اور 14اسکولز میں 4ہزار 8سو بچوں کو معیاری سہولیات دینگے ریلوے کے 8ہسپتالوں کو نجی شعبے کے تعاون سے فعال بنائیں گے انہوں نے کہا کہ ریلوے ٹرینوں سے 55ارب روپے منافع کمانے کا ہدف جلد حاصل ہوگا
شہید سپاہی کو 52لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا دہشتگردی کی جنگ غیر اعلانیہ ہے مسافروں کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے چھ ماہ میں ریلوے کے اسکولوں اور ہسپتالوں کو فعال کرینگے اسکینر کیمروں سمیت تمام تقاضوں کو پورا کرینگے پولیس اہلکاروں کو تربیت دینے میں 6ماہ کا وقت درکار ہے جہاں سے تربیت یافتہ لوگ ہونگے لائیں گے ریلوے کا کوئی اہلکار تخریب کاری کی سہولت کاری میں ملوث نہیں ریلوے ملازمین نے شہادت دی ہے ریلوے ٹریک کی مرمت ترجیح ہے میڈیا میں آنے کا شوق نہیں ٹائم فریم کا پابند ہوں ریل گاڑیوں کو شہدا کے نام سے منسوب کرینگے جدید تقاضوں کا حصول اولین ترجیح ہے جعفر ایکسپریس پر حملہ منظم دہشگردی کے تحت ہوا ایف سی کے جوانوں نے شہادت پیش کی غفلت کس کی تھی اس کی بجائے دہشتگردوں کے خلاف متحد ہونا ہے ریل کا سفر کسی خوف کے بغیر کرنے کو تیار ہوں سیکورٹی کیسی ہے اسے اوپن نہیں کرسکتے کوئٹہ 2027ء تک جدید کوچز کا ہدف حاصل کرینگے ریلوے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ حل کردیا ہے۔
Comments are closed.