علی امین روزانہ ایسا بیانیہ بناتے ہیں جس سے دہشت گردوں کو فائدہ ہوتا ہے،طلال چوہدری

فیصل آباد ( آن لائن) وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے کا92 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، علی امین گنڈا پور اپنا فرض نبھانے کے بجائے روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیانیہ بناتے ہیں جس سے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔جمعہ کے پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ علی امین گنڈا پورٹ نے ایک بار پھر دہشتگرد وں کی حوصلہ افزائی والا بیا ن دیا ہے،پاک افغان باڑ کیلئے 1400 چوکیاں قائم ہیں جن پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں ، بارڈردر کی حفاظت کی ذمہ داری دونوں ممالک پر ہوتی ہے] محدوود وسائل کے باو جود ہم سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کر رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور ایسا بیانیہ بناتے ہیں جس سے دہشت گردوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے ریڈ کارپٹ بچھا کر دہشت گردوں کو واپس ملک میں لا کر بسایا اور آج انکا وزیر اعلی ہم پر طعنہ زنی میں مصروف ہے ، انہوں نے کہا دہشتگر دوں کے خلاف جنگ پاکستان کی ہے ، ہم سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر ان کا قلع قمع کریں گے ۔ دہشتگرد بے رحمی سے عور توں اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بتائیں کے پی کے میں امن و امان کا قیام کس کی ذمہ داری ہے وہاں گورننس کی بہتری کس کا کام ہے ۔ صوبے میں سی ٹی ڈی کہاں ہے ، کتنا فعال ہے ۔

انہوں نے کہا دہشتگردوں کو رمضان کے مقدس مہینے کا بھی خیال نہیں ۔ ہماری جنگ ان سفاکوں سے ہے ا اور اس میں ہم کامیاب ہو ں گے ۔ دوسری طرف علی امین گنڈا پور ہمیں طعنے دیتے ہیں ۔ ان سے سوال ہے کہ کیا وہ دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں اس وقت دہشتگردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں اگر کوئی نہیں ہے تو وہ پی ٹی آئی ہے ۔ انہوں نے کہا دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کے پی کے میں دہشتگردی کے خلا ف اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔ سی ٹی ڈی کمزور ہونے کی وجہ سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ دس سال میں سرف پی ٹی آئی اور انکے رہنماوں پر کوئی حملہ کیوں نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا ہم نے پہلے بھی دہشتگردی کا خاتمہ کیا ، اب بھی ان خوارجیوں کا خاتمہ کر کے رئیں گے ۔ ہم متحد ہو کر اس جنگ میں کامیاب ہوں گے ۔ اس جنگ میں اگر کوئی ساتھ نہیں دیتا، صرف طعنہ زنی اور ان دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تو قوم اسکو بھی دیکھ رہی ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ قوم نے ہی کرنا ہے ۔

Comments are closed.