وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا دورہ بیلاروس،دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط متوقع ، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (آن لائن) دفترخارجہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف بیلاروس کے دو روزہ سرکاری دورہ پر ہیں ۔ انکا یہ دورہ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی دعوت پر ہے ۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں ۔ہم نے امریکہ کی جانب سے ٹیرف معطل کرنے اور سعودی عرب کی جانب سے 14 ممالک کے لیے ویزا معطلی کی رپورٹس دیکھی ہیں‘اس حوالے سے متعلقہ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں‘ہم یہاں غیر قانونی مقیم ملکیوں کی واپسی پر عملدرآمد کر رہے ہیں،یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ کسی اپنی سرحد سے قانونی طور پر آمد کو یقینی بنائے‘یہ معاملہ ریگولیشن آف سرحد کا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے میڈیاہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا وزیراعظم کے ہمراہ بیلا روس جانے والے اعلیٰ سطحی وفد میں وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے علاوہ دیگر وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں ۔ یہ دورہ نومبر 2024 میں صدر لوکاشینکو کے پاکستان کے اہم دورے کے بعد ہوا ہے۔ ترجمان نے کہا وزیراعظم باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے صدر لوکاشینکو سے بات چیت کریں گے۔امید ہے دونوں فریق تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ وزیراعظم کا دورہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مضبوط اور جاری شراکت داری کو اجاگر کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ اہم تعلقات ہیں۔حال ہی میں نمائندہ خصوصی کا دورہ کابل کافی اہم رہا۔متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ہم نے امریکہ کی جانب سے ٹیرف معطل کرنے کی اطلاعات دیکھی ہیں۔

شفقت علی خان نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے 14 ممالک کے لیے ویزا معطلی کی رپورٹس دیکھی ہیں‘اس حوالے سے متعلقہ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ہمارے چین کے ساتھ قریبی دیرینہ تعلقات ہیں۔ہم امریکہ کی جانب سے تیز رفتار ٹیرف تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔اس حوالے سے وزیراعظم نے بھی ایک اسٹیرنگ کمیٹی قائم کی ہے۔امریکہ میں تعلیمی ویزوں کی معطلی کی اطلاعات دیکھی ہیں ۔ہم اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے افغان بہنوں بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہے تاہم اپنی سرحدوں کو آزاد اور محفوظ بنانا ہماری پالیسی ہے‘حکومت نے آئی ایف آر پی کا مرحلہ وار نفاذ کر رہی ہے،اس حوالے سے ہم تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں،ہم یہاں غیر قانونی مقیم ملکیوں کی واپسی پر عملدرآمد کر رہے ہیں،یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ کسی اپنی سرحد سے قانونی طور پر آمد کو یقینی بنائے‘یہ معاملہ ریگولیشن آف سرحد کا ہے‘خارجہ پالیسی وفاق کا معاملہ ہے۔صوبائی حکومت کے افغانستان سے مزاکرات کے ٹی او آرز کا معاملہ افغان ڈیسک سے چیک کریں گے۔ترجمان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں بہت زیادہ تارکین وطن موجود ہیں،پاکستانی ویزوں پر مکمل پابندی نہیں ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بگرام میں ائیر بیس قائم کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا افواہیں ہیں تاہم یہ افغانستان اور امریکہ کی حکومتوں کا آپسی معاملہ ہے‘برطانیہ سے پاکستان لائے جانے والے قیدی کی سماجی تقریبات میں شرکت کی اطلاعات کو دیکھیں گے‘تہور رانا پر ہمارا ریکارڈ کہتا ہے کہ انہوں نے گذشتہ دو برس سے پاکستانی شہریت کی تجدید نہیں کی‘ایران ہمارا ایک اہم ہمسایہ اور قریبی دوست ہے‘ہمارے تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ترجمان نے کہا کہ جے سی پی او ایک پیچیدہ مسئلے کے حل کی عمدہ مثال ہے‘ہم تمام مسائل کے بات چیت کے زریعہ حل کے خواہشمند ہیں‘امریکہ ہماری ایک بڑی برآمدی منزل ہے‘چین پاکستان کا تزویراتی اور قریبی شراکت دار ہے‘چینی شہریوں کا تحفظ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے

Comments are closed.