فوری طور پرمشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے اور سندھ کے تحفظات دورکرنے کا مطالبہ
انہی نہروں پر ہونے والے اجلاس کی صدارت اگر آصف علی زرداری نے کی تھی تو پھر سندھ کا پانی کس نے بیچا؟علی محمد خان
اسلام آباد(آن لائن)دریائے سندھ سے کینال نکالنے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف نے قرارداد اسپیکر آفس میں جمع کرادی ہے جسمیں فوری طور پرمشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے اور سندھ کے تحفظات دورکرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ اس معاملے پر پی ٹی آئی نے پی پی پی،ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے حمایت لینے کا اعلان کردیا ہے۔قرارداد اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب خان، پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی زرتاج گل اور علی محمد خان، مجاہد خان نے دیگر اراکین کے دستخط سے جمع کرائی۔قرارداد میں کینال کی تعمیر کے معاملے کے حل کے لئے فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے مطالبہ کیا گیا۔ قراردارکے متن میں کہا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پندرہ روز میں طلب کیا جائے۔کینال کی تعمیر کے حوالے سے سندھ کے تحفظات کو دور کیا جائے۔چولستان کینال منصوبے پر مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری تک کام روکا جائے۔ساٹھ روز کے اندر ارسا اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ پانی کی دستابی سرٹیفیکیٹ پر غیر جانبدار اڈٹ کرایا جائے۔جب تک 91 والے پانی تقسیم کے معاہدے پر مکمل عمل در امد نہیں ہوتا اور کوٹری بیراج ڈاؤن سٹریم سے دس ملین ایم اے ایف پانی نہیں جاتا اس منصوبے پر عمل در آمد روکا جائے۔قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل نے کہا کہ سندھ میں نئی نہریں نکالنے پر بے چینی ہے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلائے بغیر ایسے حساس فیصلے کئے جارہے ہیں
‘میڈیا سے گفتگو کے دوران پی ٹی آئی نے پی پی پی،ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے حمایت لینے کا اعلان کردیا ۔ علی محمد خان نے مطالبہ کیا کہ پی پی پی نہروں کے خلاف ہے تو پی ٹی آئی کی قرارداد کی حمایت کرے ۔زرتاج گل نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کل ہی دریائے سندھ کے خلاف نہریں نکالنے کی قرارداد ایجنڈے پر بحث کے لئے مقرر کریں۔قومی اسمبلی ایوان میں دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کی قرارداد پر کھلی بحث کرائی جائے ،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا جائے ۔ایک صحافی کے سوال پر کہ ایک طرف آپ آصف علی زرداری پر سندھ کا پانی بیچنے کا الزام لگاتے ہیں تو دوسری طرف اپنی قرارداد پر اسی کی پارٹی سے حمایت مانگ رہے ہیں؟اس پر علی محمد خان نے جواب میں بھی سوال کردیا کہ معلوم کریں کہ آصف علی زرداری بیمار کیوں ہوئے تھے ؟ایوان صدر میں انہی نہروں پر ہونے والے اجلاس کی صدارت اگر آصف علی زرداری نے کی تھی تو پھر سندھ کا پانی کس نے بیچا؟علی محمد خان نے کہا کہ اگر آصف علی زرداری ہی صدر پاکستان ہیں اور انہوں نے نہروں کی منظوری والے اجلاس کی صدارت کی تھی تو پھر وہی ذمہ دار ہیں ‘پی ٹی آئی کو فارم پینتالیس کا رزلٹ دیا جاتا تو سندھ میں بھی آج پی ٹی آئی کی حکومت ہوتی ‘پی ٹی آئی نہروں کے مسئلے پر سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔
Comments are closed.