منسک(آن لائن) بیلا روس کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان بیلا روس کے ایوان آزادی میں دو طرفہ ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان سے 150,000 سے زائد تربیت یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کو بیلا روس بھیجا جائے گا۔ اس حوالے سے لائحہ عمل جلد ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا ،زرعی شعبے اور زرعی مشینری کی تیاری کے حوالے سے مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا،الیکٹرک گاڑیوں ، بسوں کی تیاری اور غذائی تحفظ کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،دونوں رہنماوٴں کا دفاعی تعاون اور بزنس ٹو بزنس تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا گیا،دونوں ممالک کے درمیان جس میں تجارت، سرمایہ کاری، اور علاقائی امور سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا،دونوں رہنماوٴں نے پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تعلقات کے تمام پہلووٴں میں حالیہ مثبت پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا اور باہمی فائدہ مند تعاون اور اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،وزیر اعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں گزشتہ سال ہونے والے پاک-بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس اور اس سال پاکستان سے بین الوزارتی وفد کے دورہء بیلاروس کے بعد دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے ، پاکستان بیلاروس کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،وزیراعظم نے بیلا روس میں پر تپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر صدر لوکاشینکو کا شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں کے تبادلے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا
۔وزیراعظم شہباز شریف اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈرلوکاشینکو نے تقریب میں شرکت کی۔پاکستان اور بیلا روس کی وزارت دفاع کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا، بیلاروس کی داخلی امور کی وزارت اور وزارتِ داخلہ پاکستان کے درمیان تعاون کا معاہدہ کیا گیا۔تقریب میں بیلاروس کی فوجی صنعت کی سٹیٹ اتھارٹی اور وزارت دفاعی پیداوار پاکستان کے درمیان فوجی تکنیکی تعاون سے متعلق 2025 سے 2027 کا روڈ میپ طے پا گیا، دونوں ممالک کے درمیان ری ایڈمیشن معاہدہ کا معاہدہ بھی طے پایا ہے۔پاکستان پوسٹ اور بیلاروس پوسٹ کے درمیان پوسٹل آئٹمز کے تبادلے کا معاہدہ بھی ہوا ہے جبکہ بیلاروس کے ایوان صنعت و تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے درمیان تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا ہے۔پاکستانی وفد کے دورہ بیلاروس کے دوران فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ( ایف ڈبلیو او) اور جے ایس سی ایم کوڈور جبکہ ایف ڈبلیو او اور او جے ایس سی ماز کے درمیان بھی مفاہمت کی یادداشت بھی طے پائی ہے۔بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کیفروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورے سے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی، دونوں ممالک کے درمیان بزنس فورم تجارت کے فروغ کے لئے اہمیت کا حامل ہے، دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے مواقع سے حقیقی معنوں میں استفادہ کرنا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بہترین میزبانی پر بیلاروس کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، منسک کی خوبصورتی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے 2015 کے دورہ پاکستان نے دوستی کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں، بیلاروس کے صدر سے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے مفید بات چیت ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا، صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی قیادت میں بیلاروس نے نمایاں ترقی کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، بیلاروس کی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور سازگار ماحول سے فائدہ اٹھانا چاہیے، دونوں ممالک کو زرعی اور صنعتی شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بیلاروس میں مقیم پاکستانی اس کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تعلقات کے فروغ کے حوالے سے مثبت پیشرفت باعث اطمینان ہے۔
Comments are closed.