اسلام آباد (آن لائن) عوام پاکستان پار ٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آج پورے ملک میں کسان سراپا احتجاج ہیں لیکن سننے والا کوئی نہیں ۔ گندم ہوگی کسان ہوگا تو ملک کا نظام چلے گا ۔ حکومت بتائے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کم نہ ہوتیں تو بلوچستان میں سڑکیں نہ بنتی ۔ قیمتوں میں کمی پر ریلیف نہ دینے کے لئے یہ عوام کے ساتھ یہ بھونڈا مذاق کیا جا رہا ہے ۔ پریس کانفرنس کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ دو ہزار چوبیس میں حکومت نے گندم چار ہزار میں خریدنے سے انکار کردیا ۔
کسانوں نے مجبوراً گندم کم قیمت پر بیچی۔ اور آج کسان کو اکیس سو روپے بھی نہیں مل رہے ۔ کسان کو تباہ کر دیں تو معیشت بھی تباہ کردیں گے۔ کسان کاشت بھی کرچکا ہے گندم بھی پڑی ہے لیکن خریدار نہیں ہے ۔ پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوے انہوں نے کہا آپ پتہ کرلیں ٹریکٹر کی مانگ میں کتنی کمی آئی ہے ۔ کل آپ کو گندم امپورٹ کرنا پڑے گی تو معاملہ خراب ہو جائے گا۔ آرڈیننس سے آپ لیوی یا پٹرول کی قیمت نہیں بڑھا سکتے ۔
انہوں نے کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ہونے والے فائدے کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اس پیسے سے بلوچستان میں سڑکیں بنائی جائیں گی ۔ اگر پٹرول کی قیمت کم نہ ہوتی تو کیا بلوچستان میں سڑکیں نہ بنتیں ۔ پی ایس ڈی میں سڑکیں بنانے کی بہت گنجائش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بھی سڑکوں کی ضرورت ہے لیکن پلاننگ کوئی نہیں ہے ۔ بلوچستان میں تین سے چار ارب لیٹر کی ڈیزل سمگلنگ ہوتی ہے ۔ اس سمگلنگ کی وجہ سے پورا نظام تباہ ہوچکا ہے ۔ ڈیزل کی سمگلنگ کی وجہ سے اڑھائی سو ارب کا نقصان ہوتا ہے۔ ان معاملات کیلئے مستقل پالیسی ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوے کہا کہ ڈیزل کی سمگلنگ نہیں روک سکتے تو دہشت گردی کیسے روکیں گے ۔ حکومت ایک سو آٹھ ارب کا اضافی بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے ۔
Comments are closed.