قبائلی علاقوں کی خصوصی حیثیت کاانکم ری فنڈ کا معاملہ:سپریم کورٹ نے نظر ثانی درخواست خارج کر دی
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کور ٹ نے خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں کی خصوصی حیثیت کے تحت انکم ٹیکس ری فنڈ کا معاملہ میں دائر نظرثانی درخواست خارج کردی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنچ نے جمعرات کوسماعت کی ،درخواست گزار کے وکیل ریاض حسین نے موقف اختیار کیا کہ کے پی حکومت اور کسٹم کے ری فنڈ سے متعلق نوٹفکیشن موجود ہیں،اس پرچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں پاکستان کے تمام قوانین کیلئے الگ الگ نوٹیفکیشن ہونا چاہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ الگ الگ نوٹیفکیشن اس صورت میں جاری کرنا ہوتا ہے جب خصوصی حیثیت برقرار ہو، چیف جسٹس نے کہاکہ درخواست گزار پاکستان میں رہتا اور کھاتا پیتا ہے تو تھوڑے سے ٹیکس کی ادائیگی کرنے میں کیا مسئلہ ہے،ٹیکس کے پیسے آئیں گے تو ملک میں سڑکیں، پل اور سکول بنیں گے، درخواست گزارنے کہاکہ قبائلی علاقوں میں انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوسکتا ہے اس لئے 37لاکھ کا ادا کردہ ٹیکس کا ری فنڈ چاہتے ہیں،
جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ قبائلی علاقوں کا اب وہ اسٹیٹس نہیں رہا، ٹرائبل ایریا کا اب کے پی کے میں انضمام ہو چکا ہے، واضح رہے کہ درخواست گزار مانسہرہ کے رہائشی محمد طاہر نے 2011 میں 37 لاکھ انکم ٹیکس ری فنڈ کیلئے درخواست دائر کی تھی ہائیکورٹ نے ٹیکس ٹربیونل کہ 37لاکھ روپے ٹیکس ری فنڈ کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا ۔سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نظرثانی خارج کردی۔
Comments are closed.