اسلام آباد (آن لائن)سینئر تجزیہ نگار محسن جمیل بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت سے بیک ڈور بات چیت کا ایک موقع ملا تھا مگر ہم لیٹ ہوگئے اور اب تو بھارتی صاحب بھی فوت ہوگئے ہیں‘آٹھ مہینے ہم ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ کہاں ملنا ہے مگر بات نہ ہو سکی‘بھارتی دوست سے تسلیم کیا کہ کوئی کراس بارڈر حرکت ممکن نہیں ہے، ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی جائے اور حملے کرکے آجائے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تجزیہ کرتے ہوئے محسن جمیل بیگ نے کہا کہ جو اس وقت انڈیا سے اسٹیٹمینٹ آ رہی ہیں یہ شو چل رہا ہے یہ 2002 میں ابھی پولیٹیکل گورنمنٹ نہیں بنی تھی تو ہم بیک ڈور شامل تھے اور ایک صاحب تھے جو کہ بہت ہی خاص تھے جو کہ فوت ہو گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں ان کو کہتا رہا کہ انڈین کے ساتھ ہم معاملات طے کرتے ہیں اور جو ٹینشن بنی ہے اس کو حل کر لیتے ہیں تو آٹھ مہینے انڈین بھی مجھ سے پوچھتے رہے اور میں ان سے پوچھتا رہا کہ کسی تھرڈ ملک میں ملنا تھا ہمیں تو جب وہ ملے تو انڈین ہم منصب وہ بھی بہت اچھے انسان تھے وہ بھی فوت ہو گئے تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے آٹھ مہینے کیوں لگائے تو انہوں نے کہا کہ جب میں آپ کے سامنے بیٹھنا چاہتا تھا تو میں چاہتا تھا کہ میں جھوٹ نہ بولوں تو انہوں نے کہا اس کا کیا مطلب تو انہوں نے کہا ابھی آپ سوالات کریں گے بات چیت ہو گی تو پتہ لگ جائے گا تو انہوں نے کہا کہ کراس بارڈر تو انہوں نے کہا بس اس کے لئے میں نے آٹھ مہینے لگائے ہیں آنے کے لئے سامنے بیٹھنے کے لئے ۔
انہو ں نے کہا دیکھیں یہ ممکن نہیں ہے کہ یہاں سے کوئی جائے اور آپریشن کر کے واپس بھی آ جائے یہ ناممکن ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ اگر وہ ٹرین دیکھ لیں اور جوسلامتی سطح ہے وہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں ابھی ایک سال سے نہیں گیا ۔انہوں نے کہا میں بہت دفعہ کشمیر گیا ہوں انہوں نے کہا میری کافی فیملی وہاں رہتی ہے تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بتاوں کہ یہ لوگ جو بھی بات کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا جوآپریشن انہوں نے کیا ابھی نندن والا اور انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے جو ابھی نندن والی مہم جوئی کی اور انہوں نے کہا اس کے بعد ہم نے ان کی جو ائیر سپیس بند کر دی تو جب ائیر سپیس بند کر دی تو جو ایمبسڈر تھے پاکستان میں تو وہ آج کل کینیڈا میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ مجھے روز کہتے تھے کہ فلاں نے جانا ہے اجازت دلوا دیں ائیر ٹریول کی اجازت دلوادیں تو انہوں نے کہا جو بھی ہمارے بنے ہوئے تھے تعلقات وہ بہت اچھے تھے تو انہوں نے کہا جیسے ہی مودی صاحب نے ایکسٹریم لائن لے لی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی کراس بارڈر نہیں ہے ناممکن ہے انہوں نے کہا لوکل لوگ ہوں گے ان کے لوگ ہوں گے کشمیری ہو سکتے ہیں کوئی اور ہو سکتا ہے دیکھیں جوبدلہ ہے وہ کوئی بھی لے سکتا ہے انہوں نے مزید کہا جو کام را کر رہی ہے جس طریقے سے انٹرنیشنل ایجنسیز کے ساتھ مل کے جتنا فنڈ وہ خرچ کر رہے ہیں ہمارے اوپر تو انہوں نے کہا میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نے اتنا جواب ان کو نہیں دیا ۔
انہوں نے کہاجو پچھلی قسط ہے ابھی نندن والی اس میں بھارت کو بہت نقصان ہوا،شرمندگی ہوئی ہم نے فلائی زون بند کر دیا تو انہوں نے بہت سفر کیا ان کے لوگوں نے بہت سفر کیا انہوں نے مزید کہا بہت دیر بعد بڑی مشکل سے ہم نے نارمل تعلقات کئے انڈیا کے ساتھ ان کی درخواست پہ تو انہوں نے مزیر کہا کہ ابھی بھی اگر وہ کوئی مہم جوئی کرنا چاہیں قدرتی طور پر پاکستان کا بہت مضبوط قسم کا ردعمل آئے گا اور نقصان انڈیا کا ہو گا ہمارا نہیں ہو گا ‘ان شاء اللہ ۔
Comments are closed.