مشترکہ مفادات کونسل میں چاروں صوبوں کے اتفاق رائے تک کوئی نئی نہر نہیں بنے گی، وزیراعظم اوربلاول بھٹو کی ملاقات میں فیصلہ

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم محمد شہبازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں چاروں صوبوں کے اتفاق رائے تک کوئی نئی نہر نہیں بنے گی،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 2مئی کو ہوگا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت دیگراقدامات پر حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اوراس معاملے پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ کینالز منصوبہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل جب تک رضا مندی سے کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک کوئی نہر نہیں بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 2مئی ہو گا، میں بلاول بھٹو زرداری کا بھی شکر گزار ہوں، ہم نے بھارت کے معاملات پر بھی بات چیت کی۔شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور اس کے کچھ تقاضے ہیں کینالز منصوبے اور ملکی صورتحال پر بڑی سنجیدگی سے بات کی، صوبوں کے درمیان معاملات بات چیت سے طے کیے جاتے ہیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ہماری شکایات کو سنا اور پیپلزپارٹی کے اصولی موقف اور مطالبات کو تسلیم کیا، ہمارا اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ باہمی رضا مندی کے بغیر کوئی نہر نہیں بنے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت دیگراقدامات پر حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اوراس معاملے پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

Comments are closed.