لاہور (آن لائن) وززیر اعلی پنجاب مریم نوازنے کہا ہے کہ سرحدوں پر تناو ہے لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہر چیز کا بہادری سے مقابلہ کریں ، اپنی بہادر مسلح افواج کے لئے پیغام ہے کہ قوم کے بیٹے اور بیٹیاں ان کے شانہ بشا نہ کھڑے ہیں ۔ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح پاک فوج کے ساتھ ہے ۔ آزاداکشمیر ، گلگت بلتستان کے طلبا کے لئے بھی پانچ ہزار سکالر شپس دینے کا ا علان کیا ۔ ہونہار سکالر شپ، لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا ہونہار طلبا سپر سٹار ہیں ۔ اپ کو بتانا ہے کہ سیاست کو برا سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بہت بڑی عوامی خدمت اور عبادت کا نام ہے ۔ صرف عوامی خدمت کا جذبہ ہونا ضروری ہے ۔ عوامی خدمت کے جذبے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہم نے کل مزدور کارڈ کا اعلان کیا جس کے تحت ساڑھے بارہ لاکھ مزدوروں کو تین ہزار ماہانہ ملیں گے ۔ انہوں نے کہا ڈوثرن کے چودہ ہزار بچوں کو لیپ ٹاپس دئیے جا رہے ہیں۔
لیپ ٹاپ اور سکالر شپس میں زیادہ تر حصہ بچیوں کا ہے ۔ انہوں نے کہا آج دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کا ایک انقلاب برپا ہے ہم بھی اپنے بچے اور بچیوں کو دور جدید کے مطابق ٹیکنا لوجی کی تعلیم وتربیت سے آراس تہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا پنجاب کے عوام اور بچوں کے سامنے آج سرخرو ہوں کہ تمام لیپ ٹاپس اور سکالر شپس میرٹ پر دئیے جا رہے ہیں ۔ خواہ اپ کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو اس کا اس سکیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ مریم نواز تمام طلبا کی ماں ہے جو انکے خواب پورے کرے گی۔ انہوں نے کہا ہر سال ایک لاکھ طلبہ کو لیپ ٹاپس فراہم کئے جائیں گے ۔ مجھے اپنے ملک کے نو جوانوں سے پیار ہے ۔ خوش قسمتی سے اس ملک کی پینسٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں سے اکثریت کی عمریں پینتیس سال سے بھی کم ہیں ۔ میں نے اپنے کابینہ میں تمام نوجوان لوگوں کو شامل کیا ہے جو نوجوانوں سے میری محبت کا عکاس ہے ۔ کیونکہ ان نو جوانوں نے اس ملک کا روشن مستقبل بننا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی کے باوجود تعلیم حاصل کرنے والے طلبا اورانکے والدین مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ گذشتہ پانچ سال میں لیپ ٹاپس کی تقسیم کا جو سلسلہ رکا رہا اس پر مجھے بہت افسوس ہے ۔ انہوں نے کہا وسائل کی کمی کا شکار کچھ طلبہ کی کہانیاں سن کر میں بہت روئی ہوں ۔ ہالانکہ مجھے رلانا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ جیل میں تھی ماں کی موت کی خبر سنی ۔ ڈیتھ سیل میں رہی لیکن کسی نے آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھے۔
تمام بچیوں سے بھی کہتی ہوں کہ مشکل حالات میں بھی ہمت اور حوصلہ نہ چھوڑیں ۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کی مشکلات کو دیکھتے ہوے سکالر شپس تیس ہزار سے بڑھا کر پچاس ہزار کر دی ہیں تاکہ ہونہار طلبا محنت کر کے پڑھیں او ر معا شرے کے مفید شہری بنیں۔ انہوں نے کہا تمام صوبوں کے وزرائے اعلی سے کہنا چا ہتی ہوں کہ وہ بھی طلبا کی فلاح پر توجہ دیں انھیں لیپ ٹاپس ، سکالر شپس دیں ، انہوں نے گلگت ، آزادکشمیر کے طلبا کے لئے بھی پانچ ہ ہزار سکالر شپس دینے کاا علان کیا ۔ انہوں نے کہا بارڈر پر اس وقت ٹینشن ہے لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ، ہر چیز کا بہادری سے مقابلہ کرنا ہے ۔ وطن کی خاطر جانیں دینے والوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ اس قوم کے بیٹے اور بیٹیاں انکے پیچھے کھڑے ہیں ۔ پوری قوم اس وقت سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی مسلح ا فواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ انہوں نے طلبا کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت سے اپ کا تعلق ہو اپ کا ہر قدم اس ملک کی بھلائی کے لئے ہونا چاہیے ۔ کوئی آپ کو کسی وردی والے پر گولی چلانے کا کہے اپ اسکی بات نہ سنیں آج اپ دیکھیں جن وردی والوں کو حملوں کا نشا نہ بنایا گیا وہی عوام کے تحفظ کے لئے چوکس کھڑے ہیں ۔ جلاو ، گھیراو پٹرول بم پھینکنے کی ترغیب دینے والے آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔
Comments are closed.