پہلگام واقعہ میں معصوم شہریوں کے قتل پر افسوس ،متاثرین کا دکھ پاکستان سے بہتر کوئی نہیں جانتا ، اسحاق ڈار
بھارت پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے ،ہماری مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں ،بھارتی کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ترجمان دفتر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس
اسلام آباد(آن لائن)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کی وجہ سے پورا خطہ امن و امان کے حوالے سے خطرے میں ہے ،بھارت خطے میں جان بوجھ کر صورتحال کشیدہ کررہا ہے، پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے، پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ،ایک انسان کی جان لینا پوری انسانیت کا قتل ہے، یہی ہماری قومی اور اسلام کی بھی پالیسی ہے،پہلگام میں معصوم شہریوں کے قتل پر افسوس ہے ،دہشتگردی کے متاثرین کا دکھ پاکستان سے بہتر کوئی نہیں جانتا،بھارت پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے ،ہماری مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں ،بھارتی کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ان خیالات کا اظہار اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ،ان کے ہمراہ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان بھی موجود تھے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے ،بھارت کے غیرقانونی اور غیرسنجیدہ بیانات سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں ،پہلگام واقعے کی آڑ میں بھارتی اقدامات جارحیت پر مبنی ہیں ،پاکستان دہشت گردی کا شکار رہاہے،پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتاہے۔دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہواہے،معصوم شہریوں کا قتل کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستان کی قومی اوراسلامی پالیسی ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اسلام کہتا ہے ایک شخص کی زندگی بچانا گویا پوری انسانیت کی زندگی بچانا ہے ہمارا مذہب اسلام کہتا ہے ایک شخص کی زندگی بچانا گویا پوری انسانیت کی زندگی بچانا ہے“ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی کمیونٹی کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے اس مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے جب کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب بھارت، پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اور قتل کی مہم کا جشن مناتا ہے جب کہ پاکستان کے علاوہ کسی نے بھی دہشت گردی کی جنگ میں اتنی قربانیاں نہیں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت دیگر ممالک پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے، بھارت میں ہمیشہ ایسے واقعات تب ہوتے ہیں جب وہاں کوئی عالمی شخصیت دورہ کررہی ہوتی ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں سے خطے کی صورتحال پر بات ہوئی ہے، بھارت پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دہشتگردی میں ملوث ہے، پاکستانی قوم اور اداروں نے دہشتگردی کا جواں مردی سے مقابلہ کیا ہے ، بھارتی حکومت کی طرف سے سیاسی مقاصد کیلئے ایسے واقعات کا استعمال ہوتا ہے اور دہشتگردی کے ہر واقعے پر الزام تراشی بھارت کا وطیرہ ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے ، بھارت مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو دہشتگردی سے جوڑنا چاہتا ہے ، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق کچلنے کیلئے بھارت نے کالے قوانین کا سہارا لیا، پورا خطہ بھارت کے غیرذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے خطرے میں ہے، بھارت میں مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف مذموم مہم جاری ہے، بھارت خطے میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت نے ہماری شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کا جواب نہیں دیا، غور کرنا ہوگا کہ بھارت نے یہ مہم جوئی کیوں کی اور مقاصد کیا ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی فریق سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا ، سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی بیان عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ،پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے اور سلامتی کمیٹی نے واضح کردیا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 روز میں بھارت کی جانب سے انتہائی غیرذمہ دارانہ رویہ اور اقدامات کئے گئے ، کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا بھرپور طاقت سے جواب دیں گے ، بھارت نے کوئی بھی جارحیت کی تو منہ توڑجواب دیں گے، پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں ، دنیا پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشتگرد کارروائیوں پر بھارت سے جواب طلبی کرے ، بھارت کے جارحانہ اقدامات خطے کو تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی، اور 150 ارب ڈالر سے زائد معاشی نقصانات کا سامنا کیا جب کہ مجموعی طور پر پاکستان کو جو نقصان اٹھانا پڑا، وہ 500 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت دیگر ممالک پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے، بھارت میں ہمیشہ ایسے واقعات تب ہوتے ہیں جب وہاں کوئی عالمی شخصیت دورہ کررہی ہوتی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت میں ’ہر واقعے پر جو ہنگامہ اور میڈیا کی ہائپ پیدا کی جاتی ہے وہ جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے کی جاتی ہے‘، اور یہ ’انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے الزامات اور افواہیں مہم کے طور پر استعمال کرتا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے اس طریقہ کار کا سہارا لیا ہو، وہ ماضی میں بھ یایسا کرچکے ہیں اور دوبارہ وہی طریقہ کار استعمال کیا جیسے پلواما میں کیا گیا تھا جو اب بہت معروف طریقہ کار بن چکا ہے جس کا مقصد بھارت کی کشمیر میں کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبانے میں ناکامی، مقبوضہ کشمیر میں اس کی سیکیورٹی کی ناکامیوں اور دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی اور جبر سے توجہ ہٹانا ہے۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے پہلگام معاملے پر عالمی برادری سے 6 سوالات کیے۔1) کیا یہ وقت نہیں کہ پاکستان سمیت دنیا میں بھارت کی جانب سے شہریوں کے قتل کا احتساب کیا جائے؟2) کیا یہ اہم نہیں کہ پہلگام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور بھارت کی جارحیت میں تفریق کی جائے؟3) کیا ایسا نہیں کہ بھارت ایک ملک پر فوجی حملے کے لیے پراپیگنڈا کر رہا ہے؟4 ) کیا بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کا احترام نہ کرنے سے خطے کی صورتحال خراب نہیں ہوگی؟ 5 ) کیا یہ وقت نہیں کہ عالمی برادری مذہبی نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا پربھارت کی مذمت کرے؟ 6) کیا ہم آگاہ ہیں کہ بھارت کی جارحانہ سوچ سے خطے میں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ خطرناک ہوسکتا ہے؟ اس موقع پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ جہاں پہلگام میں یہ حملہ ہواہے وہ لائن آف کنٹرول سے 230 کلومیٹر فاصلے پر ہے ، یہ معروف سیاحتی مقام ہے ، یہ سارا علاقہ پہاڑی ہے ، یہ حملہ ایک بج کر 50 منٹ پر شروع ہوا اور 2 بج کر 20 منٹ تک جاری رہا جبکہ حملے کے ٹھیک 10 منٹ کے بعد ہی مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے ، حملے میں نیپالی شہری سمیت 26 لوگ مارے گئے ، آٹھ دن گزر چکے ہیں لیکن کسی کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گی اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کیئے گئے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی حمایت میں چلنے والے سوشل میڈیا اکاونٹس پر چند لمحوں بعد ہی پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا شروع کر دیا گیا جبکہ اس وقت کوئی ثبوت یا معلومات دستیاب نہیں ٹھیں، یہ سارا علاقہ پہاڑی ہے اور یہاں سے پولیس سٹیشن پہنچنے میں بھی 30 منٹ کا وقت درکار ہے
، ایف آئی آر درج ہونے کا وقت بہت اہم ہے اور کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے ، یہ بہت تیزی سے درج کی گئی ، ایف آئی آر لکھنے کیلئے وقت درکار ہوتاہے اور آپ کو واقعے کی تفصیلات بھی معلوم ہونی چاہیے ، اس مشکل علاقے میں یہ سارا کام دس منٹ میں کیا گیا۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں فوجی جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو یہ بھارت کا فیصلہ ہوگا یہ راستہ آگے کہاں تک جاتا ہے، وہ ہمارا فیصلہ ہوگا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے بھارتی جارحیت کی جوابی کارروائی کے لیے تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں۔پاک فوج ہر محاذ پر کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ہم بھارت کی ہر شعبے میں نگرانی کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام اپنی خود مختاری اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی بیانیہ کے مطابق یہ دہشتگردی کا واقعہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مسلمانوں نے فائرنگ کی، اور ہندووٴں پر فائرنگ کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے یہ بیانیہ کیوں چلایا جا رہا ہے؟ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی بھارتی بیانیے کے متعلق سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا موٴقف واضح ہے کہ دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کروا رہا ہے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بھارت دہشت گردی کرتا ہے، تاریخ خود بتاتی ہے کہ بھارت میں 25 سال پہلے کیا ہوا تھا، بھارت واقعات کو استعمال کرنے کے لیے ایک ہی طرز عمل پر کام کرتا ہے، ٹھوس شواہد ہیں بھارتی فوج کا افسر پاکستان میں دہشت گردی کا ہینڈلر ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس واقعے سے پہلے بھارتی سوشل میڈیا اکاوٴنٹس سے پوسٹ کی گئیں جس میں کہا گیا پاکستان پر نظر رکھیں، واقعے کے بعد بھارتی میڈیا نے دہشت گردوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا، جعفر ایکسپریس واقعے کی اے آئی فوٹیج جاری کی گئیں، بھارت میں سرینڈر کرنے والوں نے بتایا کہ بھارت کیسے انہیں اسپانسر کرتا ہے، پلوامہ واقعے کو کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے میں استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے سے متعلق بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، اب دیکھ رہے ہیں پہلگام واقعے کو سندھ طاس معاہدے پر استعمال کیا جارہا ہے، اطلاعات ہیں متعدد پاکستانی غیرقانونی طور پر بھارت میں قید ہیں، ان پاکستانیوں کو جعلی انکاوٴنٹر میں قتل کیا جارہا ہے جن سے متعلق کہا جائے گا کہ یہ دہشت گرد ہیں، بھارت میں فیک انکاوٴنٹرز کی تاریخ موجود ہے جس کی مثال نوجوان ضیا مصطفیٰ ہے، انہیں اکتوبر 2013 میں فیک انکاوٴنٹر میں قتل کیا، اڑی کے رہائشی محمد فاروق اور محمد دین کو فیک انکاوٴنٹر میں قتل کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت الزام تراشی کر رہاہے کہ اس حملے میں پاکستان کا ہاتھ ہے ، پہلگام پاکستانی حدود سے 230 کلومیٹر دور ہے ، اگر آپ علاقے کو دیکھیں تو یہ پہاڑی علاقہ ہے ، مشکل گزار راستوں سے بھرا ہواہے ، یہاں پر گھوڑوں پر سوار ہو کر یا جیپ پر ہی جایا جا سکتاہے ، جس جگہ واقعہ ہوا وہاں سے پولیس سٹیشن جانے میں تیس منٹ درکا ر ہیں، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پولیس وہاں پر تھی، حالات کا جائزہ لیا اور اس کے بعد انہوں نے پولیس سٹیشن پہنچ کر مقدمہ درج کیا، یہ دس منٹ میں کیسے ممکن ہے ؟۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے مقدمے میں درج تفصیلات نے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں
، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ان دہشتگردوں کے ہینڈلرز سرحد کے پار دوسری جانب تھے ، انہوں نے صرف دس منٹ میں یہ اندازہ کیسے لگا لیا ؟، جب یہ واقعہ ہوا تو اس کی کوئی انٹیلی جنس نہیں تھی لیکن جیسے ہی واقعہ ہو جاتا ہے تو صرف دس منٹ میں اتنی انٹیلی جنس ہوتی ہے کہ انہوں نے یہ اخذ کر لیا کہ ان کے ہینڈلرز سرحد پار سے تھے ؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ واقعہ کے بعد تین بج کر پانچ منٹ پر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی پشت پناہی میں چلنے والے سوشل میڈیا ہنڈلز پر پاکستان پر الزام لگانا شروع کر دیا گیا ، اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے بھی یہی الزامات لگانا شروع کر دیئے ، جبکہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ چار بجے وہ پر اعتماد تھے کہ یہ حملہ مسلمان حملہ آور نے کیاہے ، ہمارا موقف ہے کہ دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہے ، یہاں کوئی اسلامک ، ہندو یا کرسچن دہشتگرد نہیں ہے ، کیونکہ دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ان کا کہناتھا کہ الزام تراشی کے بجائے بھارتی حکومت کو سوالوں کے جواب دینا ہوں گے، دہشتگردی واقعات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا بھارت کا وطیرہ ہے، بھارت دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سبوتاژکرنا چاہتا ہے، پہلگام واقعے کو سندھ طاس معاہدے کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی نے کہا کہ یہاں ہم دیکھتے میانوالی میں دہشتگرد حملہ فتنہ الخوارج کی جانب سے کیا جاتا ہے ، اس کے بعد 6 اکتوبر 2024 کو کراچی میں چینی شہریوں پر حملہ کیا جاتاہے ، حملے سے قبل یہی سوشل میڈیا اکاونٹس پر ٹویٹ کیا جاتاہے کہ ’ اگلے چند گھنٹوں میں بڑا دن ہے “۔ اس کے بعد ایک اور ٹویٹ کیا جاتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ’ کراچی میں بڑا دھماکہ، مزید تفصیلات آرہی ہیں ‘۔سات اکتوبر کی صبح ایک اور ٹویٹ کیا جاتاہے جس میں کہا جاتاہے کہ کراچی ایئر پورٹ کے قریب ایک آئی ای ڈی دھماکہ ہواہے، ایک گاڑی غیر ملکیوں کو لے جارہی تھی ، ایک غیر ملکی زخمی ہواہے جبکہ ایک جاں بحق۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ حالیہ جعفر ایکسپریس حملے میں بھی یہی سوشل میڈیا اکاونٹس پر پیغامات جاری کیئے جاتے ہیں، جن میں کہا گیاہے کہ اپنی نظریں آج اور کل پاکستان پر جمائے رکھو ، اس کے بعد جعفر ایکسپریس پر حملہ کیاجاتاہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارتی جیلوں میں قیدپاکستانیوں کودہشتگرد قراردیکرجعلی مقابلوں میں نشانہ بنایاجاسکتاہے، الزامات کیبجائیہم پہلگام واقعے کے حقائق پرجائیں گے، بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے، بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ معلومات ہیں بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد آلہ کار پاکستان میں دہشتگردی کیلئے متحرک کر دیئے ہیں
، افواج پاکستان اور ایجنسیاں تمام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، دنیا دیکھے بھارت نے پاکستان میں 2024سے اب تک 3 ہزار سے زیادہ حملے کرائے، پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کا اہم اسپانسر بھارت ہے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی قوم اور اداروں کا عزم غیر متزلزل ہے، چھٹی سنگھ پورا اور پلوامہ واقعات کو بھی بھارت نے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی قوم اور اداروں کا عزم غیر متزلزل ہے۔پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے، پاک فوج مشرقی اور مغربی سرحدوں پر چوکناہے، افواج پاکستان اور ایجنسیاں تمام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، بھارت اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے الزام تراشی کا سہارا لیتا ہے، پہلگام واقعے پر سوال اْٹھانے والوں کو بھارتی حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ترجمان نے پہلگام واقعے میں شہید ہونے والے مسلم شخص کے بھائی کا ویڈیو کلپ شرکا کو دکھایا جس میں شہید کا بھائی کہہ رہا ہے کہ اس واقعے میں میرا بھائی بھی شہید ہوا جو مسلمان ہے، تو یہ بات غلط ہے کہ صرف ہندووٴں کو نشانہ بنایا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ بھارت کی جابن سے یہ خود ساختہ بیانیہ کیوں بنایا جارہا ہے؟ وزیراعظم نے بھی بھارتی بیانیے پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خود ایک دہشتگرد ریاست ہے، پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو بھارت کی جیلوں میں رکھا ہوا ہے، بھارت ان قیدیوں پر تشدد کرتا ہے اور ان سے بیان دلواتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ بھارت کی جیلوں میں سیکڑوں پاکستانی غیرقانونی قید ہیں، بھارت ان قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بے گناہ لوگوں کو درانداز کا الزام لگا کر مار رہا ہے۔ اوڑی میں محمد فاروق کو جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا، بھارتی فوج نے اس کو درانداز کہا، حالانکہ وہ معصوم شہری تھا۔ ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے، ہم نے جوابی کارروائی کے تمام اقدامات مکمل کر لئے ہیں ، پاک فوج مشرقی اور مغربی سرحدوں پر چوکنا ہے، فضا سے زمین اور سمندر تک ہر محاذ پر جواب دینے کیلئے تیار ہیں، فوج،فضائیہ اور نیوی ہر وقت تیاری میں مصروف ہے، ہم ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، حملہ کہاں ہو گا یہ بھارت کا انتخاب ہو گا،آگے کہاں جانا ہے یہ ہم بتائیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی جیلوں میں قید سیکڑوں پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں مارا جا رہا ہے، پہلگام واقعے کے بعد فاروق اور محمد دینی نامی کشمیروں کو شہید کیا گیا، یہ دونوں اوڑی کے رہائشی تھے، ان دونوں کو جعلی مقابلے میں مارا گیا، محمد فاروق کی لاش کے پاس ایک پستول دکھائی گئی، چمکتے جوتوں کو دیکھ کر ثابت ہو گیا کہ سب کچھ پلانٹڈ تھا، بھارت خود سے پوچھے ریاستی دہشت گرد کون ہے۔ کلبھوشن جادیو کوتو سب جانتے ہیں۔ پاکستان میں جنوری 2024 سے 3 ہزار 700 دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ کون ان دہشت گرد حملوں کی معاونت کر رہا ہے
، ان حملوں میں 1314 شہید اور 2582 زخمی ہوئے، مسلح افواج نے 192 آپریشنز کیے، ان آپریشنز میں 16 ہزار 66 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، مقبوضہ کشمیر میں 50 گھر بلڈوز کر دیے گئے 2 ہزار افراد کو اٹھا لیا گیا، پہلگام واقعے میں مارا جانے والا پہلا شخص مسلمان تھا، مسلمانوں نے ریسکیو کیا، مسلمانوں نے ایمبولینس بھیجی، مسلمان ڈاکٹروں نے زخمیوں کا علاج کیا۔کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر ایک بیرونی مسئلہ ہے یہ اسے اندرونی بنارہے ہیں، دہشت گردی بھارتی کا اندرونی مسئلہ یہ اسے بیرونی بنارہے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران بھارتی میڈیا کے وہ کلپس دکھائے گئے جن میں خود بھارتی شہریوں نے پہلگام حملے پر حکومت، فوج اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے۔ویڈیو کلپ میں ایک شہری کہتا دکھائی دیا کہ ”یہاں دس لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج قابض ہے، اگر ہم کوئی پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کریں تو ہمیں راتوں رات اٹھا لیا جاتا ہے۔“ شہری نے سوال کیا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں فوج موجود ہے تو وہ کیا کر رہی ہے، کیا وہ جھک مار رہی ہے؟ جہاں حملہ ہوا وہاں فوج کیوں نہیں تھی، اور وہاں موجود افراد کو بچانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟ایک اور شہری نے براہِ راست سوال کیا کہ ”پہلگام کی ذمے داری کس کی ہے؟ کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں؟“ اس نے کہا کہ ”27 لوگوں کی جان گئی، وہاں سیکیورٹی کیوں نہیں تھی؟“کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”پہلگام پر اتنا بڑا حملہ ہوا اور کسی کو کچھ پتا ہی نہیں چلا۔“ اسی دوران ایک اور فرد نے نشاندہی کی کہ پورے علاقے میں قدم قدم پر فوج تعینات ہے، اگر یہ واقعی بارڈر کے قریب تھا تو حملہ آور کہاں سے آئے؟ اور واپس کیسے گئے؟“ یہ چھوٹا سا علاقہ ہے، جہاں گاڑی بھی نہیں جا سکتی، اور سیکیورٹی اتنی سخت ہے کہ پیدل چلنا بھی مشکل ہوتا ہے، پھر حملہ آور وہاں کیسے پہنچے؟“پریس کانفرنس کے دوران ایک شہری کا یہ بیان بھی سنایا گیا: ”کہیں نہ کہیں ہماری اپنی ایجنسی ہی یہ حملے کرواتی ہے۔“ دوسرے شہری نے کہا کہ کافی لوگوں کو نہیں معلوم کہ پہلگام کہاں ہے
، امرناتھ کہاں ہے، چندن واڑی کہاں ہے۔ خاتون نے کہا کہ آج اتنے دن ہو گئے ملک کے رہنما کہاں ہیں؟ وہ یہاں کیوں نہیں آئے یہ لوگ کیا سرکار اور کیا ڈیفینس منسٹری چلائے رہے ہیں ان سے اب تک حملہ آر پکڑے نہیں گئے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بھارتی ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے پہلگام واقعے کے بعد مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی مختلف ویڈیوز بھی چلائیں گئیں۔ ان ویڈیوز میں بھارتی انتہا پسندوں کو مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان پر شدید تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ایک ویڈیو میں انتہا پسندوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ”ہم نے اپنا کام شروع کر دیا ہے“، جس کے بعد ایک مسلمان شہری پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا اور اسے جلایا گیا۔ایک اور ویڈیو کلپپ میں ہندو انتہا پسندوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ”بھارت ماتا کی سوگند، دو مسلمان مار دیے، اگر 26 ہندووٴں کا بدلہ نہ لیا تو بھارت ماتا کا بیٹا نہیں“، اور اس کے ساتھ ہی ہندوازم کے نعرے لگائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس مضبوط وجوہات، تجرباتی شواہد اور حقائق موجود ہیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ رہے ہیں کہ پہلگام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ ایک آزاد، معتبر اور شفاف تحقیقات ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس معتبر انٹیلی جنس ہے کہ پہلگام کے بعد بھارتیوں نے اپنی تمام پراکسیز کو پاکستان میں ہر جگہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا ٹاسک سونپا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ وہ دہشت گردی ہے جس کی بھارت پشت پناہی اور سرپرستی کر رہا ہے، یہ پوری دنیا کے دیکھنے کے لیے ہے کیونکہ اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کررہی ہے۔
Comments are closed.