اسلام آباد(آ ن لائن)پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج محنت کشوں کا عالمی دن منایا گیا جب کہ مختلف شہروں میں مزدور اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دیہاڑی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔یومِ مزدور کی مناسبت سے آج ملک سمیت دنیا بھر میں محنت کشوں سے اظہار یکجہتی اور ان کے حقوق کے لیے خاص دن منایا گیا، تاہم مہنگائی، بے روزگاری اور کم اجرت کے مسائل نے مزدوروں کو آج بھی دیہاڑی کی تلاش پر مجبور کر رکھا ہے۔محنت کشوں کی بڑی تعداد یومِ مزدور کے دن بھی آرام کے بجائے روزگار کی تلاش میں مصروف ہے۔یاد رہے کہ پاکستان میں یوم مزدور قومی سطح پر پہلی بار 1973 میں منایا گیا، جب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس دن کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔ آج کے دن ملک بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔یوم مزدور کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ کہ پاکستان اپنی محنت کش افرادی قوت کے محفوظ، صحت مند اور باوقار مستقبل کے عزم کو دْہراتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ آئین پاکستان میں شامل ہے۔ ملک میں افرادی قوت کے تحفظ کے لیے اہم قانون سازی اور انتظامی اصلاحات کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جبری مشقت کے خاتمے اور میری ٹائم لیبر کنونشن کے پروٹوکول 2014 کی توثیق کی ہے۔ ملک بھر میں ہر مزدور اب قومی پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی پالیسی سے مستفید ہو رہا ہے۔وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ مزدوروں کے حقوق کے فروغ اور باوقار روزگار کے مواقع کی فراہمی میں کردار ادا کریں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یوم مزدور پر پیغام میں محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم مئی قربانی، ہمت اور جدوجہد کا دن ہے، جو ہمیں مزدوروں کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محنت کش رزق حلال کما کر معیشت کو مضبوط کرتے ہیں۔ ملک کی پائیدار ترقی محنتی اور پْرعزم افرادی قوت کی مرہون منت ہے۔ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔یومِ مزدور پر وفاقی وزیر قانون و انصاف نے محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مزدور ہمارے ملک کی بنیاد ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو دن رات محنت سے پاکستان کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی محنت کا احترام اور ان کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف مزدوروں کے لیے ایسے قوانین کو یقینی بنا رہی ہے جو ان کے تحفظ، وقار اور فلاح کی ضمانت دیں۔ایک محفوظ، منصفانہ اور باعزت ماحول ہر مزدور کا حق ہے اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں۔وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، خالد حسین مگسی نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ مزدور کے اس موقع پر ہم اْن محنتی مرد و خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ،مزدور ہمارے گھروں کو تعمیر کرتے ہیں، ہماری خوراک اگاتے ہیں، اور ملک کی ترقی کا پہیہ رواں دواں رکھتے ہیں،اْن کی محنت، ہمت اور استقامت پاکستان کی ترقی کی بنیاد ہے،وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی میں ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم مزدوروں کے لیے کام کی جگہوں کو محفوظ اور اْن کے کام کو آسان بنانے کے لیے سائنسی جدت کو بروئے کار لائیں۔
ہم خاص طور پر اْن شعبوں پر توجہ دے رہے ہیں جہاں مزدور سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں جیسے زراعت، تعمیرات اور غیر رسمی شعبہ تاکہ ان کے تحفظ، صحت اور فلاح کے لیے عملی اور قابلِ استطاعت حل فراہم کیے جا سکیں۔محنت صرف مشقت نہیں، بلکہ قوم کی تعمیر ہے۔ آئیں ہم سب مل کر پاکستان کے ہر مزدور کو عزت، تحفظ اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔وزیر ریلوے حنیف عباسی نے یوم مزدور پر کہا کہ “محنت کشوں کی محنت، پاکستان کی ترقی کا انجن!”پاکستان کے محنت کشوں کی محنت اور عزم کو سلام۔ پاکستان کے محنت کش عوام کی محنت اور لگن ہی ہماری قومی ترقی کا انجن ہے۔تمام محنت کش ہمارے ملک کے عظیم اثاثہ ہیں۔ مزدور کی جدوجہد نے ملک کے معاشی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے۔ محنت کش ہماری ترقی کی بنیاد ہیں۔ پاکستان ریلوے کی کامیابی میں محنت کش کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔میں بھی ایک محنت کش ہوں جو ملک و قوم کی فلاح کے لیے دن رات اپنی محنت میں مصروف ہوں۔ ریلوے کے محنت کش، پاکستان کی ترقی کا راستہ روشن کرتے ہیں۔ وزیر تجارت جام کمال نے یوم مزدور پر کہا کہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے یومِ مزدور پر محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ محنت کش ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، مزدور کا وقار خوشحال قوم کی بنیاد ہے، صنعت، زراعت، تجارت و خدمات سے وابستہ مزدور قومی ترقی کے محرک ہیں،باعزت روزگار اور منصفانہ تجارت کے مواقع بڑھا رہے ہیں، مزدوروں کی مہارت میں اضافہ اور برآمدات کے فروغ پر توجہ مرکوز ہے،سب مزدوروں کے لیے مساوات، انصاف اور احترام کو یقینی بنائیں گے، حکومت مزدوروں کو بااختیار بنانے کے عزم پر قائم ہے، وہ مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کی قوت ہیں۔
Comments are closed.