اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم محمدشہبازشریف نے کہا ہے کہ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر نا قابل قبول ہے،ملک میں عنقریب بجلی کی پیداوار کے لیے فری مارکیٹ قائم کی جائے گی،مارکیٹ سے مسابقتی بنیاد پر بجلی کی فراہمی ممکن ہو گی جو بجلی کی پائیدار فراہمی اور نرخوں میں مزید کمی کا باعث بنے گی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کے نرخوں میں کمی اور توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کے حوالے سے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے مستحکم منصوبہ (آئی جی سی ای پی 2024-2034) کے بارے میں اجلاس ہوا۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ تقریبا ساڑھے سات روپے کمی کے بعد حکومت پاکستان عوام کی مزید سہولت کے لیے شعبہ توانائی میں پائیدار اصلاحات کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔وزیراعظم نے ملک میں توانائی کی پیداوار اور پانی کے وافر ذخیرے کا مؤثر نظام قائم کرنے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر نا قابل قبول ہے، ملک میں عنقریب بجلی کی پیداوار کے لیے فری مارکیٹ قائم کی جائے گی، مارکیٹ کے قیام سے مسابقتی بنیاد پر بجلی کی فراہمی ممکن ہو گی جو کہ بجلی کی پائیدار فراہمی اور نرخوں میں مزید کمی کا باعث بنے گی۔اجلاس میں وزیراعظم کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کوبتایا گیا کہ مہنگے منصوبوں کو پلان سے نکالنے اور منصوبوں کی تکمیل کی تاریخوں میں ردوبدل سے مجموعی طور پر 17 ارب ڈالر (4743ارب روپے)کی بچت ہوگی۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیای ہ وزیر اعظم کی ہدایت پر جب آئی جی سی ای پی کا دوبارہ جائزہ لیا گیا تو یہ بات آشکارہوئی کہ کہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ٹاسک فورس نے دن رات محنت کرنے کے بعد اس کو زمینی حقائق اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق دوبارہ تیار کیا۔اگلے دس سالوں کے لیے بجلی کے پیداواری منصوبوں میں مسابقتی بولی اور کم ترین قیمت پر بجلی کی فروخت کے لیے راہ ہموار کی گئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کل 7967 میگا واٹ کے مہنگے منصوبوں کو بجلی کی پیدوار کے منصوبے(IGCEP) سے نکالا جا رہا ہے،بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کی تاریخوں میں ردوبدل کیا جا رہا ہے، مہنگے منصوبوں کو پلان سے نکالنے اور منصوبوں کی تکمیل کی تاریخوں میں ردوبدل سے مجموعی طور پر 17 ارب ڈالر (4743ارب روپے)کی بچت ہوگی، بجلی کی پیداوار کے لیے مقامی ذخائر اور شمسی، نیوکلیئر اور پن بجلی جیسے متبادل ذرائع کو درآمدی ایندھن پر ترجیح دی جائے گی، اس حکمت عملی سے زر مبادلہ کے ذخائر میں کئی ارب ڈالر کی بچت ہو گی، حکومت کی جانب سے بجلی کی خریداری اور بجلی بنانے والی کمپنیوں کو کیپیسیٹی پیمنٹ رفتہ رفتہ ترک کر دی جائیں گی۔وزیراعظم نے وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری اور انکی کی ٹیم کو ملک کیلئے 4743 ارب روپے کی بچت کو سراہا اور اس کو ایک اور تاریخی کامیابی قراردیا۔اجلاس میں وزیر توانائی سردار اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
Comments are closed.