24 اور 26 نومبر کا پرتشدد احتجاج :انسداد دہشت گردی راولپنڈی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے نامزد 82 ملزمان کو اعتراف جرم پر 4/4 ماہ قید اور 15 ہزار روپے فی کس جرمانے کی سزا سنادی
راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 24 اور 26 نومبر کے پرتشدد احتجاج میں نامزد 82 ملزمان کو اعتراف جرم پر 4/4 ماہ قید اور 15 ہزار روپے فی کس جرمانے کی سزا سنادی ہے سزا پانے والے ملزمان نے عدالت کے روبرو اعتراف کیا کہ انہوں نے مقامی اور قومی قیادت کے اکسانے پر پر تشدد مظاہرے کئے ملزمان نے فرد جرم میں عائد تمام الزامات کو قبول کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خود کو عدالتی رحم وکرم پر چھوڑتے ہیں سزاوٴں میں تخفیف کی استدعا کرتے ہیں مستقبل میں ایسے جرائم نہیں کریں گے گزشتہ روز عدالت نے 24 اور 26 نومبر کے پر تشدد احتجاج کے 24 مقدمات کی سماعت کے دوران 568 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالت نے 1609 ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لئے طلب کیا تھا عدالت نے زیر سماعت 25 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں بھی خارج کر دیں اس طرح مجموعی طور پر ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے والے ملزمان کی تعداد 1074 ہوگئی ہے عدالت نے ضمانتوں کے اخراج کے بعد 1074 ملزمان کے قومی شناختی کارڈ بلاک اور اکاوٴنٹس منجمند کر کے گرفتاری کے احکامات بھی جاری کردئیے ہیں
دوران سماعت عدالت میں موجود دیگر ملزمان نے بھی اعتراف جرم کی خواہش ظاہر کی لیکن رکن قومی اسمبلی شاندانہ گل نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا جس پر عدالت نے شاندانہ گل سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں تو شاندانہ گل نے جواب دیا کہ وہ وکیل ہیں ں جب عدالت نے وکالت نامے بارے استفسار کیا کہ وہ ابھی وکالت نامہ دے رہی ہیں جس کے بعد انہوں نے اعتراف جرم کے رضامند دیگر ملزمان سے کاغذ پر انگوٹھے لگوائے اور عدالت سے غائب ہو گئیں جس پر پراسیکیوشن کے وکیل ظہیر شاہ کا موقف تھا کہ ملزمان جان بوجھ کر دانستہ طور پر ٹرائل میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں پراسیکیوشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایک طرف شاندانہ گل وکیل ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں جبکہ یہ ایک رکن قومی اسمبلی ہیں اور اس حیثیت سے تنخواہ وصول کرتی ہیں اور صبح سے توہین عدالت کر کے کاروائی میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں جس پر عدالت نے شاندانہ گل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا کہ وہ 7 مئی کو عدالت میں جواب دیں کہ کہ غلط بیانی سے کیوں عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی عدالت نے ایس پی سکیورٹی کو ہدایت کی کہ 24 اور 26 نومبر کے مقدمات کی آئندہ سماعت پر سیکورٹی کے سخت اور فول پروف انتظامات کئے جائیں اور آئندہ ہر سماعت پر اینٹی رائٹ فورس تعینات کی جائے۔
Comments are closed.