اسلام آباد(آن لائن )بھارت کو عالمی سطح پر ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جہاں اس نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) پروگرام میں مداخلت کی کوشش کی ۔ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش ناکام ہوئی اور پاکستان نے بھارت کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان معاشی ترقی کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے اور پاکستان میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پورے عزم سے کام کر رہا ہے۔
اس ضمن بتایا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے خلاف منفی بیانیہ بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی معطلی کی طرح عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور بھارت کا یہ رویہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بھارتی عدم برداشت خطے میں توازن کو خراب کر رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں بھارتی مداخلت کسی صورت منظور نہیں جبکہ پاکستان اپنی معیشت کو مسلسل مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔بھارت مسلسل عالمی قوانین اور دوسرے ممالک کے حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے بھارت کے دعوٰی کو مسترد کردیا اور کہا کہ پاکستان کا پروگرام ایگزیکٹو بورڈ میں منظوری کیلیے شیڈول ہوچکا ہے،پاکستان کی اگلی قسط1.1 ارب ڈالر اورکلائمٹ کے اثرات سے مقابلہ کیلیے 1.3 ارب ڈالر رواں ماہ منظور ہونے کا امکان ہے، بھارت کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا ازسرِ نو جائزہ کی درخواست بے سود ہے، آئی ایم ایف علاقائی صورتحال و کشیدگیوں کو دیکھ کر فیصلے نہیں کرتا،
پاکستان نے گزشتہ سال آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کا بیل آوٴٹ پیکیج حاصل کیا،7 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کی بدولت ملک کی 350 ارب ڈالر مالیت کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اس پروگرام کے شروع ہونے سے پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بھی ٹل گیا تھا۔پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں رکاوٹ کی بھارتی کوششوں کو مسترد کرچکاہے،ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی معیشت کی بحالی بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے، بھارت پاکستان کو معاشی خوشخال نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔
Comments are closed.