بھارت اسرائیل ہے اور نہ پاکستان فلسطین، حملہ ہوا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا:ترجمان پاک فوج

اسلام آباد (آن لائن) پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ نہ تو بھارت اسرائیل ہے اور نا ہی پاکستان فلسطین، بھارت نے ہمیں اکسایا یا حملہ کیا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا۔پاکستان دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ دہشتگردی کا شکار ملک ہے، او ر اس دہشتگردی کی پشت پناہی بھارت کر رہا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ترک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ دہشتگردی کا شکار ملک ہے، جنوری 2024 سے اب تک 3700 سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں، اس ساری دہشت گردی کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھارت کر رہا ہے، 17 ماہ میں دہشتگردی کے واقعات میں 3896 افراد شہید ہوئے، 3896 شہدا میں سے 2582 سویلین اور سکیورٹی اہلکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں یا بھارت میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ بھارتی کااندرونی مسئلہ ہے،

کشمیر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازع ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں لیکن اگر بھارت نے ہمیں اکسایا یا حملہ کیا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ بھارت امریکا نہیں اور پاکستان افغانستان نہیں، بھارت اسرائیل نہیں اور پاکستان فلسطین نہیں ہے، پاکستان، بھارتی تسلط کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے کہا بھارت جتنی جلدی یہ سمجھ جائیگا یہ علاقائی اور عالمی امن کیلئے اچھا ہو گا، بھارت پہلگام واقعے میں کوئی بھی ثبوت دینے میں ناکام رہا، بھارتی حکومت ان واقعات کو دہشت گردی کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والی بی ایل اے نے کھلے عام بھارت سے مدد کی درخواست کی تھی، نئی دہلی میں کچھ رہنماوٴں، سیاست دانوں اور ریٹائرڈ جرنیلوں نے بی ایل اے کی حمایت میں بیانات دیے۔

ترجمان نے کہا حالیہ کشیدگی میں بھارت کے 5 جنگی طیارے مار گرائے جن میں سے 3 رافیل تھے، دنیا جانتی ہے پاکستان نے بھارتی طیارے گرائے لیکن نئی دہلی اسے ماننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کشمیر میں یا بھارت میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ بھارتی جبر کی وجہ سے اندرونی مسئلہ ہے۔ کشمیر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے، بھارت کشمیر کو حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ وہ جبر سے اسے اندرونی مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے

Comments are closed.