قومی اسمبلی اجلاس: حکومت اور اپوزیشن قومی کھیل کرکٹ کے معاملے پر آمنے سامنے ، ایک دوسرے پر شدید تنقید

اسلام آباد(آن لائن )قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن قومی کھیل کرکٹ کے معاملے پر آمنے سامنے آ گئے اور ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ، پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سپیکر ڈیسک کے سامنے بیٹھ گئے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔پیر کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہوا ، ،اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ،اقبال آفریدی اجلاس کے آغاز پر ہی واک آوٹ کر گئے ،وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر فضل چوہدری نے کہا کہ آج دنیا بھر کی کرکٹ ٹیمیں پاکستان آرہی ہیں،کھیلوں میں کھویا ہوا مقام حاصل کریں گے، اس دوران تحریک انصاف کے عامر ڈوگر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ورلڈ کپ جتوایا،دو تین سالوں میں کرکٹ کی بدحالی آپ کے سامنے ہے،ٹیسٹ میں رینکنگ 9 ویں نمبر پر ہے،اعلی عہدوں پر فائز لوگوں کا کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں، سپورٹس زوال کا شکار ہے،نبیل گبول نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سوئی سدرن گیس والوں نے فٹ بال ٹیم کو نوکری سے نکال دیا،کیا آپ ایم ڈی سوئی سدرن کو کہہ سکتے ہیں کہ فٹ بال ٹیم کو بحال کریں،اس پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ متعلقہ منسٹری سے بات کروں گا، نور عالم خان نے کہا کہ ارباب نیاز اسٹیڈیم پشاور میں کوئی میچ نہیں ہو رہا ہے،1992 کا ورلڈ جیتنے کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے

،اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے کچھ ارکان کا اسپیکر کے ڈائس کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا اور پی ٹی آئی ارکان کے ڈرون حملے نامنظور کے نعرے کے نعرے لگائے ،وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کل نجی کاروائی کا ایجنڈا موخر کرنے کی تحریک منظور پیش کی اور کہا کہ کل پرائیویٹ بزنس کی بجائے حکومتی بزنس لیا جائے گا،اس موقع پر شازیہ مری نے کرکٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم معاشرے سے بتدریج سپورٹس ختم کررہے ہیں ،وزیراعظم نے کرکٹ کے حوالے سے اقدامات کے اعلان پر کیا عمل ہوا،جس پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کچھ عرصے میں پانچ چھ دفعہ کوچز اور سلیکشن کمیٹی تبدیل ہوئی ،اس وقت منتخب بورڈ کام کررہا ہے،عامر ڈوگر نے کہا کہ حکومت کھیلوں کی بہتری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے جس پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن ہمارا ساتھ دے ہم اصلاح کیلئے تیار ہیں ،نبیل گبول نے کہا کہ سوئی گیس کی ایم ڈی نے فٹبال کی ٹیم ختم کردی،طارق فضل چوہدری نے نبیل گبول کو یقین دہانی کرادی ،نور عالم خان نے کہا کہ پشاور کرکٹ سٹیڈیم میں پندرہ سال سے میچز نہیں ہورہے ،طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پشاور کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے ،پشاور کرکٹ سٹیڈیم میں میچز کرانے سے متعلق بات اٹھاوں گا۔وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پچھلے سال ایس آئی ایف سی میں دو اعشاریہ تین بلین ڈالر فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ریکارڈ کی گئی ہے ،پاکستان میں سرمایہ کاروں کو مشکلات پیش آتی ہیں ،ایس آئی ایف سی کی وجہ سے چیزوں کو بہتر کیا جارہا ہے،ایس آئی ایف سی کے پاس کوئی جادو نہیں ہے ،راتوں رات یہ چیزیں ٹھیک نہیں ہوں گی ،پاکستان کے معاشی اعشاریے بہتر ہونے سے دشمن کو تکلیف ہے

،پہلے ڈومیسٹک میں پانچ ٹیمیں ہوتی تھیں ،اب ڈومیسٹک میں اٹھارہ ٹیمز کھیل رہی ہیں طارق فضل چوہدری ،اس وقت ستر اسی ہزار کھلاڑیوں کے ٹیلنٹ ہنٹ کیے جا رہے ہیں،ان میں جو بہتر ہیں وہ بنا کر بھیج دیں اوپر والے یا نیچے والے،پچھلے مالی سال دو اعشاریہ تین بلین ڈالر فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ریکارڈ کی گئی ہے،ایس آئی ایف سی کی وجہ سے چیزوں کو بہتر کیا جارہا ہے،ایس آئی ایف سی کے پاس کوئی جادو نہیں ہے، معاشی اعشاریئے بہتر ہو رہے ہیں، ایس آئی ایف سی کا ادارہ انویسٹمنٹ کو بڑھانے کے لئے بنایا گیا ،ایس آئی ایف سی کا ادارہ بہترین طریقے سے کام کر رہا ہے۔پی سی بی کا آڈٹ کب کیا گیا؟ مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ فنڈز کی مس اپروپری ایشن دیکھی گئی ہے، زرتاج گل نے کہا کہ قومی کھیل سیاست ہے پاکستان کو سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات ہیں،موجودہ حکومت کی کوشش زیرو ہے،انہوں نے کوئی ایسے اقدامات لئے ہیں جس سے اس رسک سے نمٹا جاسکے وزیر مملکت منصب علی کھرل نے کہا کہ تمام پالیسیز پر عملدرآمد کررہے ہیں،کلائمیٹ جسٹس کے حوالے سے آواز ضرور اٹھاتے ہیں۔

Comments are closed.