کراچی(آن لائن) وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ کشیدہ صورتحال میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی تھی ،افواج پاکستان نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ،فضائیہ کے شاہینوں نے جدید ٹیکنالوجی سے دشمن کو سبق سیکھایا
دشمن یہ سبق قیامت تک یاد رکھے گا ،پاک بحریہ نے بندر گاہوں اور تجارتی راستوں کا بھر پور تحفظ کیا ،ہمارے نڈر سپوتوں نے وطن عزیز کا دفاع نا قابل تسخیر بنا دیا ہے ،اپنے تمام غازی اور شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں ،پاکستان امن پسند ملک ہے مگر دشمن نے دوبارہ جارحیت کی تو منہ توڑ جواب پائے گا ،ہمارے موقف کی تائید کرنے والے دوست ملکوں کے شکر گزار ہیں ،چین نے ہر برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ۔ پاکستان نیوی ڈاکیارڈ میں افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ووزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان نے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔انہوں نے کہاکہ کشیدہ صورت حال میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی رہی، پاک بحریہ کے افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہاکہ بری فوج نے اپنے میزائلوں کے ذریعے دشمن کے ٹھکانوں پر نشانے لگائے، جبکہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دشمن کو سبق سکھایا۔ پاک بحریہ دشمن کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار تھی لیکن بھارت کو آگے بڑھنے کی جرات نہیں ہو سکی، اگر آگے بڑھتے تو مزید رسوائی اٹھانی پڑتی۔ پاک بحریہ 1965 کی طرح ’دوارکا‘ کی تاریخ دہرانے کے لیے تیار تھی۔
جارحیت کے دنوں نے جوانوں نے بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کا بھرپور تحفظ کیا۔انہوں نے کہاکہ بہادر افواج کے درمیان مربوط تعاون سنہری باب ہے، جس پر میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔شہباز شریف نے کہاکہ ہماری افواج کی بھرپور تیاری کے باعث دشمن ہمارا بال بیکا نہ کر سکا، ہم اپنے تمام شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ہم ایک امن پسند قوم ہیں اور تمام تصفیہ طلب مسائل کا بات چیت کے ذریعے حل چاہتے ہیں، لیکن اگر دشمن نے جنگ مسلط کی تو ہمیشہ کی طرح ہمیں تیار پائے گا۔انہوں نے اس موقع پر مشکل وقت میں ساتھ دینے والے برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ یہ وہ تاریخ کا ایک قابل فخر واقعہ ہے جس نے پاکستان کو پہلے بھی اور آئندہ کے لیے بھی ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اس موقع پر پی این ایس مہران کے شہید لیفٹیننٹ یاسر کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے جان کی پروا کیے بغیر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوکر اپنی جان کی قربانی دی مگر پاکستان کے وقار اور بحری اثاثوں کے اوپر آنچ نہیں آنے دی، یہ تمام غاذی اور شہدا ہماری قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی حالیہ ناکام اور ہزیمت آمیز مہم جوئی میں دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ ہماری بحریہ مکمل طور پر تیار تھی
، بھارت کا فخریہ ایئرکرافٹ کیریئر وکرانت 400 ناٹیکل میل سے قریب آنے کی جرات نہیں کرسکا، یہ بے مثال دفاعی حکمت عملی اور جوانوں کے غیرمتزلزل عزم کی زندہ مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس امتحان کے دوران ہماری بندرگاہیں مکمل طور پر فعال رہیں، کراچی اور بن قاسم پر تجارتی جہاز بلاتعطل آتے جاتے رہے، جبکہ بھارت کے مغربی ساحل پر تجارتی سرگرمیاں ماند پڑگئیں، پانچ گنا بڑی بھارتی بحریہ اس پوری صورتحال میں مکمل طور پر مفلوج دکھائی دی، رافیل جہازوں کا حشر دیکھ کر ان کا نام نہاد وکرانت میدان جنگ سے یوں بھاگا کہ پلٹنے کا نام تک نہ لیا، یعنی ہماری شارکس نے ہندوستانی وہیل کو مار بھگایا۔وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آج ہمارا دشمن خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ پاکستان نیوزی نے خلیج فارس، بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے، یہ آپ سب کی اور پوری قوم کی فتح ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں اور اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں لیکن اگر ہم پر جنگ دوبارہ مسلط کی گئی تو دشمن ہمیں ہمیشہ تیار پائے گا، ہم جارحانہ عزائم نہیں رکھتے لیکن ہم اپنے وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا تحفظ کرنا بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔
Comments are closed.