وزارت مذہبی امور نے سرکاری حج سکیم کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کےلئے جانے والے عازمین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا

اسلام آباد(آن لائن) وزارت مذہبی امور نے سرکاری حج سکیم کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کےلئے جانے والے عازمین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ،حرم پاک سے کئی کلو میٹر دور رہائش گاہیں ،کھانے کے ناقص انتظامات اور حج معاونین کی سرد مہری نے عازمین کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ،حرم پاک کی حدود میں عازمین کی رہنمائی کےلئے ڈیسک موجود نہ ہونے اور زونگ کی سم کے حوالے سے بھی مشکلات درپیش رہی ۔وزارت مذہبی امور کی جانب سے بلند و بانگ دعووں کے برعکس سعودی عرب میں سرکاری حج سکیم کے تحت جانے والے عازمین کو مختلف مسائل نے پریشانی سے دوچا ر کردیا ہے وزارت کی جانب سے فراہم کی جانے والی موبائل سم کے نہ چلنے اور حرم پاک سے کئی کلو میٹر دور رہائش گاہوں کی وجہ سے پاکستانی عازمین کےلئے حرم پاک میں نمازیں ادا کرنا بڑا مسئلہ بن گیا ہے

وزارت کی جانب سے فراہم کی جانے والی بسیں کم ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے عازمین کی اکثریت فرض نمازوں کی ادائیگی کےلئے بھی بروقت حرم پاک نہیں پہنچ پا رہی ہے اسی طرح عازمین کو رہائش گاہوں میں فراہم کئے جانے والے کھانے کے حوالے سے بھی شکایات سامنے آرہی ہیں جس میں ایک ہی سالن صبح اور شام کے اوقات میں فراہم کیا جارہا ہے عازمین کے مطابق وزارت کی جانب سے مقرر کئے جانےوالے حج معاونین بھی ڈیوٹیاں ادا نہیں کر رہے ہیں اور حرم پاک کی حدود میں پاکستانی عازمین کی رہنمائی کےلئے کوئی کاﺅنٹر دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے اکثر پاکستانی عازمین راستہ بھول جانے یا دیگر مسائل کی وجہ سے پریشانی کے عالم میں پھرتے ہیں اور ان کی رہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا ہے

مکہ معظمہ کے علاقے بطعہ قریش کے بلڈنگ نمبر928میں مقیم پاکستانی عازمین احسان نے بتایا کہ بلڈنگ رہائش پذیر زیادہ تر عازمین کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ اور وفاقی دارلحکومت سمیت پنجاب کے دیگر شہروں سے ہے جن میں اکثریت سادہ لوح افراد ہیں اور ان کو جگہ جگہ پر رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے مگر انکی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے انہوں نے بتایا کہ بلڈنگ میں اس وقت کوئی ڈسپنسری نہیں ہے اور پاکستان حج مشن کے افسران سمیت کسی بھی اہلکار نے ابھی تک بلڈنگ کا دورہ نہیں کیا ہے تاکہ عازمین کے مسائل کو معلوم کیا جاسکے انہوں نے وزارت مذہبی امور کے افسران سے مطالبہ کیا کہ عازمین کو درپیش مسائل حل کرنے کےلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں ۔۔۔۔

Comments are closed.