اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہاہے کہ عازمین حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے وزارت کا عملہ پوری طرح کوشاں ہے اور حج معاونین کے خلاف شکایات پر سخت کاروائی کی جائے گی انہوں نے کہاکہ نجی سکیم کے تحت 25ہزار 698پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے جبکہ دیگر سے جمع ہونے والی رقم واپس کرنا ان کی ٹور اپریٹرز کی ذمہ داری ہے۔جمعہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہاکہ حج پالیسی نومبر میں منظور ہوئی تھی جبکہ میں نے مارچ میں چارج سنبھالا تھا اور اس دوران دو مرتبہ سعودی عرب جاکر انتظامات دیکھے ہیں انہوں نے کہاکہ نجی سکیم کے پیسے بروقت ٹورآپریٹرز نہ بھیج سکے اور نجی سکیم میں سعودی عرب کے احکامات پر عمل نہ کیاگیا انہوں نے کہاکہ سعودی حکومت کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن کے حوالے سے ٹورآپریٹرز نے سستی دکھائی اور سعودی حکومت نے دوہزار کوٹہ والی کمپنیوں کو ہی کوٹہ دینے کا طے کیا جبکہ ہوپ نے 41کلسٹر بنائے اور انہوں نے چودہ فروری تک پچیس فیصد رقم کرانا تھی مگر اس وقت تک بہت کم رقم جمع کرائی گئی جس کے بعد مذیداڑتالیس گھنٹے اضافی دیئے گئے تو پھر بھی دس ہزار مزید کی رقم جمع ہوئی انہوں نے کہاکہ سرکاری کوٹہ مکمل طور پر مکمل ہوا اور بروقت سب کچھ ہوگیا جبکہ نجی شعبے میں ایچ جی اوز اور منظمہ اس پر عملدرآمد نہیں کرسکے اس کے بعد ہم نے درخواست کی تھی مگر یہ پوری دنیا کیلئے پالیسی تھی وزیراعظم نے پھر اس کا نوٹس لیا اور پھر وزیر خارجہ کی ذمہ داری لگائی اور 10 ہزار کا اضافہ کردیا نجی شعبے میں 25 ہزار 698 کے قریب لوگ عازم حجاز مقدس ہوسکیں گے
انہوں نے کہاکہ ہم نے بارہا خطوط لکھے کہ کوٹہ کم ہو جائیگا مگر اس جانب متوجہ نہیں ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ بعض ٹور آپریٹرز کہتے ہیں کہ انہیں ڈیڈ لائن کا نہیں بتایا گیا اور وزارت نے بروقت ٹورآپریٹرز کو بتایا لسٹ بھی وزارت نے کوٹہ والی کمپنیوں کو دیا وزیر اعظم نے رہ جانے والے عازمین حج کے معاملے پر کمیٹی بنادی ہے تحقیقاتی کمیٹی جو رپورٹ سامنے لائے گی اس پر ذمہ داران کو سزا ملے گی میں نے سعودی عرب کا دورہ کرکے چیک کیا ہے کہ وہاں سرکاری سکیم کے عازمین سے مسائل معلوم کئے ہیں وزارت نے بہترین انتظامات کئے ہیں کھانے ٹرانپسورٹ وغیرہ سب کچھ اچھا چل رہا ہے سرکاری سکیم میں ایک ہی کیٹگری ہے اگر کسی کو تکلیف ہے تو وہ وہاں وزارت کے عملے کو بتائے انہوں نے کہاکہ ہم نے بارہا اشتہار کے زریعے عوام کو بھی مطلع کیا کہ کس کس کمپنی کو حج کوٹہ ملا ہے بعض لوگوں کی کوتاہی و غفلت کے باعث لوگ رہ گئے، اس میں ملوث افراد خلاف کارروائی کی جائیگی مدینہ میں 100 فیصد ہمارے حاجی مرکزیہ میں رہائش پذیر میں رہ رہے ہیں مدینہ میں کھانا بھی اعلی معیار کا رہا ہے وفاقی وزیر نے کہاکہ سعودی عرب میں بلڈنگ اور کیٹرنگ وغیر ہ کے انتظامات کئے گئے ہیں اسی طرح مشاعر میں بھی انتظامات کئے گئے ہیں
انہوں نے کہاکہ ہمارے حاجیوں کی اکثریت عزیزیہ اور بطعہ قریش میں مقیم ہیں اور ان کیلئے بسوں کا انتظام کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے حاجیوں کے ہر سیکٹر میں ڈسپنسریز کا انتظام کیا گیا ہے اسی طرح ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی ہدایات کی گئی ہیں کہ کسی کو تکلیف نہ ہو اور انہیں نزدیک ترین مقام تک پہنچایا جائے انہوں نے کہاکہ حج کے حوالے سے اپنے سابقہ تجربے کی بنیاد پر انتظامات کئے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے حج معاونین اور دیگر سٹاف دیکھ بھال کر رہے ہیں اگر کسی کو کوئی مشکل درپیش ہے تو وزارت کے سٹاف کی ذمہ داری ہے کہ ان کی شکایات کو حل کرے انہوں نے کہاکہ ہمیں جو شکایا ت پہنچتی ہیں ہم ان کو بھی حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ پاک حج ایپ میں تمام معلومات موجود ہیں اور اگر کسی کو مشکل پیش آئے تو اس کی رہنمائی کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ ہر پاکستانی حاجی کو سہولیات فراہم کی جائیں اور جتنا بھی ممکن ہوسکے اچھے انتظامات کئے جائیں انہوں نے کہاکہ سرکاری سکیم کے تحت 31مئی تک حج اپریشن جاری رہے گا انہوں نے کہاکہ حج معاونین کی سلیکشن این ٹی ایس کے زریعے کی گئی ہے اور حج معاونین کی ذمہ داری ہے کہ وہ عازمین کو سہولیات فراہم کرے اور اگر حج معاونین اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے ہیں تو ان کے خلاف وزارت کاروائی کرے گی انہوں نے کہاکہ نجی شعبے میں ابھی تک بہت ساری کمپنیاں کوٹے کے انتظار میں ہیں میں واضح کرتا ہوں کہ اب کوئی کوٹہ نہیں ملے گااس حوالے سے ڈی جی حج مکہ نے کوٹے کے حصول کیلئے خط لکھا مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا ہے انہوں نے کہاکہ سعودی حکومت پوری دنیا کیلئے پالیسی بناتی ہے اور جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ سب کیلئے ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ جو پیسے نجی ٹور اپریٹرز نے بھجوایا تھا وہ ان کے اپنے اکاؤنٹس میں جمع ہے اب ان کی ذمہ داری ہے کہ جن سے رقوم لی ہیں ان کو واپس کریں انہوں نے کہاکہ اگر نجی ٹور اپریٹرز نے پیسے لئے ہیں تو وہ واپس کرے وفاقی وزیر نے کہاکہ شکایات کا سسٹم موجود ہے وزارت کے ذمہ دار حج معاونین کو چیک کرتے ہیں اگر کسی جگہ پر کھانا اچھا نہیں ملتا ہے تو اس کا ٹینڈر کینسل کرکے بلیک لسٹ کیا جائے گا ۔ #/s#
Comments are closed.