پاکستان نے بھارت کا منہ کالا کر دیا ، بھارت میزائل بھیجتا ہے ، ڈرون بھیجتا ہے ، حملہ کرتا ہے ، پاکستانی فوج اس کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اسلام آباد (آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر لفٹنینٹ جنرل احمد شریف اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کا پوری دنیا میں منہ کالا کر دیا ، بھارت میزائل بھیجتا ہے ، ڈرون بھیجتا ہے ، حملہ کرتا ہے ، پاکستانی فوج سینہ تان کر اس کے سامنے کھڑی ہے، بھارت بیس سال سے دہشتگردی کر رہا ہے ، دہشتگردی کے خلاف پوری قوم متحد ہو چکی ، بھارت کو سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستانی قوم متحد کیسے ہو گئی ، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے ، بھارت بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے ۔ دہشتگردی ی کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں صرف بھارت ہے ۔ دشمن سے پاکستان کی معاشی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ، پاکستان نے دہشتگردوں کے لئے اپنی سر زمین تنگ کر دی ہے ، وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل نو کردی ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا بھارت گذشتہ بیس سال سے ریاستی دہشتگردی کی پالیسی جاری رکھے ہوے ہے ۔ بھارت خطے کا امن سبوتاژ کر رہا ہے ۔ دو ہزار نو میں پاکستان نے بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کا ڈوزئیر اقوا م متحدہ میں پیش کیا ۔ دوہزار سولہ میں بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شوائد بھی دنیا کے سامنے رکھے ۔ انہوں نے کہا مختلف گرفتار دہشتگردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا ہے ۔ کلبھوشن یادیو اس کی واضح مثال ہے جس نے تما م تر حقائق اعتراف کیا ۔ انہوں نے کہا بھارت دہشتگردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا فتنہ الہندوستان خضدار میں بچوں کی شہادتوں میں ملوث ہے ۔ اکیس مئی کو ہونے والے اس حملے میں چھ طلبا شہید اور ا کاون زخمی ہوے ہیں ۔ خضدار بچوں پر حملہ فتنہ الہندوستان کا مکروہ چہرہ ہے، کئی بچے ہسپتال میں زیر علاج ہیں
، حملہ بھارتی ایما پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 12 اپریل 2024 میں مزدوروں کو شہید کیا گیا، 9 مئی 2024 میں سات حجاموں کو دوران نیند قتل کیا گیا، 10 اکتوبر 2024 کو دکی میں کوئلہ کان میں کام کرنے والے مزدوروں کو شہید کیا گیا، 10 فروری 2025 کو کیچ میں 2 درزیوں کو فتنہ الہندوستان نے شہید کیا، 19 فروری 2025 کو بارکھان میں مزدوروں کو بس سے اتار کر شہید کیا گیا، 11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس پر حملے میں نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی 2025 کو لسبیلہ میں 3 معصوم حجاموں کو شہید کیا گیا، 21 مئی 2025 کو خضدار میں معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا، حملے میں 51 زخمی ہیں جن میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے، بلوچستان کے لوگ بھی پوچھ رہے ہیں کہ دہشتگردی کا بلوچیت سے کیا تعلق ہے، یہ دہشتگردی کر رہے ہیں لیکن بلوچستان کے عوام کا عزم نہیں توڑ پا رہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میجرسندیپ کا بیان ہے کہ بھارت بلوچستان سے لاہور تک دہشتگردی کرا رہا ہے، میجر سندیپ کے بیان سے واضح ہوا کہ یہ کیسے پاکستان میں دہشتگردی کرانے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی کی رات بھارت نے پاکستان میں کچھ مقامات پر حملہ کیا، انٹرنیشنل میڈیا نے ان مقامات کا دورہ کیا، کیا میڈیا کو ان مقامات پر ایسی کوئی سرگرمی نظر آئی جو مشکوک ہو، بھارت بتائے کس ثبوت کی بنیاد پر پاکستان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد حیوانیت پر اتر آئے ہیں، پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان نے ہر فورم پر بھارت سے ثبوت مانگے، فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں سے مہنگا اسلحہ برآمد ہو رہا ہے، فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد جب بھی پکڑے جاتے ہیں ان سے مہنگا اسلحہ برآمد ہوتا ہے، ان دہشتگردوں کو اتنا مہنگا اسلحہ کون خرید کر دے رہا ہے، بھارتی میڈیا جھوٹ پھیلانے میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فتنہ الہندوستان ہے، اس کا تعلق صرف ہندوستان سے ہے، بھارت دہشتگردوں کو پیسہ بھی دیتا ہے اور ہتھیار بھی، پاکستان میں دہشتگرد واقعات کو بھارتی میڈیا نے ایسے رپورٹ کیا جیسے بہت اچھی چیز ہو، میانوالی کے واقعہ کو بھی بھارتی میڈیا نے گلیمرائز کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے بزدلوں کی طرح خضدار واقعہ پر جشن منایا، بھارت کے علاوہ دنیا کا کون سا ملک ہے جو دہشتگرد حملوں پر جشن مناتا ہے، فتنہ الہندوستان نے اب سافٹ ٹارگٹس پر حملے شروع کر رکھے ہیں۔
دوران پریس کانفرنس ڈی جی آئی ایس پی آر نے جنگ کے بعد بھارتی میڈیا پر چلنے والی ویڈیو چلا دیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ دہشتگردی کون کر رہا ہے، بھارت ڈرامہ کر رہا ہے کہ پاکستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے، بھارت اپنی دہشتگردی پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ سب کر رہا ہے، بھارت کے اندر سے سوالات اٹھ رہے ہیں، پاکستان کی مسلح افواج سینہ تان کر کھڑی ہیں، ان کی بزدلانہ کارروائیوں سے ہم ڈرنے والے بالکل نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا پر پاکستان کے افسروں اور جوانوں کے سروں کی قیمتیں لگائی جا رہی ہیں، بھارت کے اندر سے سوالات آرہے ہیں کہ سکیورٹی فیلیئر ہوگیا، یہ دہشت گردی کہاں جا کر ختم ہوتی ہے، کون ہدایات دیتا ہے، سب کچھ واضح ہے، معرکہ حق میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے بھارت کا منہ کالا کیا۔ انہوں نے کہا ہندوستان اور اس کے فتنے کھل کر سامنے آرہے ہیں، بی ایل اے کے دہشتگرد بھارتی چینلز پر پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں ۔ بھارت اور فتنہ الہندوستان پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ انہوں نے کہا نے کہا کہ بلوچستان میں حملے کا واقعہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سرپرستی میں ہوا، فتنہ الہندوستان کا تعلق بلوچستان سے نہیں صرف بھارتی آقاوٴں سے ہے، بھارت میں آزاد میڈیا کا کوئی وجود نہیں، سارا میڈیا ریاست کے کنٹرول میں ہے، پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی بات کرنے والوں نے بھارتی میڈیا کا حال دیکھ لیا۔پریس کانفرنس کے دوران خضدار بس سکول پر حملے میں شہید اور زخمی ہونے والے طلبہ کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔ انہوں نے کہا یہ فتنہ الہندوستان کا اصل چہرہ ہے ۔ کیا اس میں کوئی انسانیت ہے ۔ فتنہ الہندوستان جان بوجھ کو معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ بلوچستان کے لوگ پوچھ رہے ہیں ، مسلمان پوچھ رہے ہیں اور میں خود پوچھ رہا ہوں ۔ یہ کون سا اسلام کون سی انسانیت ہے ۔ یہ کونسی بلوچیت ہے ۔ انہوں نے کہا یہ حیوانیت ہے ۔ اسی لءء یہ فتنہ الہندوستان ہے #۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں میجر سندیپ کی آڈیو بھی سنائی انہوں نے کہا کون ہے دہشتگرد ، کون انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے ۔ سب کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا ہم نے معرکہ مرصوص میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ بھارت کی جانب سے بارڈر کراس کرنے والے اکہتر دہشتگردوں کو ضہنم واصل کیا گیا ۔ انہوں نے جدید ترین اسلحے کی تصاویر دکھاتے ہوے سوال کیا کہ کون ہے جو دہشتگردوں کو یہ اسلحہ فراہم کررہا ہے ۔ دہشتگردوں سے قبضہ میں لیے جانے والے ہتھیار امریکی ساختہ ہوتے ہیں ۔ یقینا دہشتگردوں کو یہ جدید ہتھیار اور اسلحہ بھارت خرید کر دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کراچی میں چینی باشندوں پر حملے میں بھی بھارت ملوث ہے۔ ہم پر تنقید کی جاتی ہے کہ سرحد پر باڑ کیوں لگائی دوسری جانب دہشتگردوں کو ہتھیار اور پیسہ دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان بھارت سے پہلگام حملے کے حوالے سے ثبوت مانگ رہا ہے ۔
انہوں نے کہا فتنہ الہندوستان نے اب سافٹ ٹارگٹس پر حملے شروع کر دئیے ہیں ۔ کیا انکی بزدلانہ کارروائیوں سے ہم ڈر جائیں گے ہر گز نہیں ۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے بھارت ڈرامے کرتا ہے کہ پاکستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے ۔ جبکہ انکے یہ جو اپنے ملک میں ظلم کر رہے ہیں یہ اس کا ردعمل ہوتا ہے۔ انکے اپنے ملک سے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ دنیا ان سے پوچھتی ہے کہ کون سا پاکستانی پہلگام حملے میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا بھارت کا یہ گندا چہرہ ہے جو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا دہشتگرد وں کو گولی لگتی ہے تو بھارت ان کا علاج کرتا ہے ۔ بہت سے نڈر بلوچ جب بھارت کی اصل حقیقت کو سمجھتے ہیں تو وہ سرینڈر کر جاتے ہیں ۔ اور پھر وہ ہمیں تفصیل بتاتے ہیں کہ کس طرح بھارت انھیں مکروہ عزائم کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا دہشتگرد اور ڈاکٹر اللہ نذر کو ہندوستان میں فری ویزہ اور انٹری اورکی سہو لت میسر ہے ۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا واضح گٹھ جوڑ ہے۔ عدیلہ بلوچ کو بھلا کر دہشتگرد حملے کے لئے استعمال کیا گیا ۔ بھارت کے اندر لوگوں کو یہ پریشانی ہے کہ بھارت ان حرکتوں سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا فتنہ الخوارج بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے ۔ تا ہم دہشتگرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت حملے کا اب سوچ بھی نہیں سکتا تاہم اگر اس نے ایسی کوئی غلطی کی تو پاک فوج ایک بار پھر دشمن کو دھول چٹانے کے لئے تیار بیٹھی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو یہ اس کا پاگل پن ہی ہو گا ہم بار بار کہہ رہے کہ حماقت نہ کرنا ہم پہلے بھی یہی کہہ رہے تھے ۔ انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر خطے میں کشید گی کی بنیادی وجہ ہے جب تک یہ تنازعہ حل نہیں ہوتا پا کستان اور بھارت کے درمیان امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ مسئلہ کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے ساتھ چین بھی فریق ہے ۔ انہوں نے کہا افغانستان پاکستان کا ایک پڑوسی ملک ہے اس حقیقت کو بھارت تبدیل نہیں کر سکتا افغانستان کو چاہیے اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانیوں کے ساتھ حسن سلوک کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کرتار پور راہداری بند کر کے مذہبی آزادی پر قدغن لگائی ہے ۔ پاکستان میں سکھوں کے مذہبی مقامات ہیں ۔ انکے ساتھ ہمارا ایک خوبصورت رشتہ ہے ۔ ہمارا مذہب بھی کسی کے مذہبی مقامات پر حملے کی اجزت نہیں دیتا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دشمن کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور بھارت کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ پاکستانی قوم متحد کیسے ہو گئی ۔ انکے ذہن میں یہ تھا کہ وہ ہمیں تقسیم کر کے ہم پر حملہ آور ہوں گے ۔ سیکرٹیری داخلہ خرم آغا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہا وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل نو کر دی ہے ، پلان کے تمام اجزا آپریشنل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا اب موثر طریقے سے مقابلہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا خضدار میں دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا حملے میں چھ طلبا شہید ہوے اور اکاون زخمی ہوے ۔ یہ حملہ سکول بس پر نہیں ہماری اقدار پر تھا ۔ دہشتگردوں نے سکول کئے معصوم بچوں کو نشانہ بنا یا ۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق فتنہ الہندوستان اس حملے میں ملوث ہے ۔ اس فتنے نے پاکستان کاا من سبوتاژ کیا ۔ واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔
Comments are closed.