راولپنڈی (آن لائن) تحریک انصاف کے سابق چیئرمین نے حکومت کے خلاف اپنی قیادت میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر کو تحریک کا پلان تیار کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اعلان کے تحت ملک کے تمام شہروں میں بیک وقت احتجاج کیا جائے گا اور اس تحریک کی قیادت سابق چیئرمین خود جیل سے کریں گے۔ سینیٹر علی ظفر نے گزشتہ روز سابق چیئرمین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ احتجاجی تحریک کا مرکز اسلام آباد نہیں ہوگا بلکہ ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائیں گے کیونکہ ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا جس کے بعد ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا سابق چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ ملک بھر میں احتجاج کریں گے جسے میں جیل سے لیڈ کروں گا اور احتجاجی تحریک سے متعلق تمام ہدایات میں جیل سے دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ احتجاجی تحریک کا پلان بنا کر دوں لہٰذا آئندہ ملاقات پر احتجاجی تحریک کا پلان پیش کروں گا۔ وکلا اور پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد منصوبہ بندی طے کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین بہت سنجیدہ ہیں اب جو تحریک چلے گی ایسی تحریک پہلے کبھی نہیں چلی ہو گی کیونکہ سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ اس دفعہ تحریک پوری منصوبہ بندی اور تیاری کے ساتھ چلا کر نتیجہ خیز بنانا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک چلانے میں رکاوٹیں آتی ہیں لیکن ہمیں بھی طریقے آتے ہیں آئندہ چند دنوں میں احتجاجی تحریک کی حکمت عملی تیار ہو جائے گی اور سابق چیئرمین جیل سے بطور چیئرمین تحریک کو لیڈ کریں گے اس ضمن میں اگلی ملاقات کے بعد سابق چیئرمین خود ذمہ داریاں تفویض کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ سابق چیئرمین نے پارٹی لیڈرشپ بارے کہا کہ ان پر اعتماد ہے لیکن تحریک وہ لیڈ خود کریں گے کیونکہ ہمیں عدلیہ اور ایگزیکٹو سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا ہماری لئے کوئی آپشن نہیں چھوڑا گیا۔
سابق چیئرمین نے کہا اس سے زیادہ ہم دیوار کے ساتھ نہیں لگ سکتے ،تحریک کے حوالے سے ذمہ داریاں مختلف لوگوں کو دی جائیں گی سابق چیئرمین نے جو اعلان کیا ہے اب اس پر عمل درآمد ہونا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا 5 جون کو سماعت ہوتی ہے یا نہیں یہ سوالیہ نشان ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ ہمیں ریلیف مل گا۔
Comments are closed.