یالدا حکیم کا شری رحمان کے ساتھ اسکائی نیوز پر پروگرام – ایک تجزیہ
حال ہی میں یالدا حکیم نے اسکائی نیوز پر ایک پروگرام کیا جس میں شری رحمان بطور مہمان شریک تھیں۔ اس دوران انہوں نے 313 بریگیڈ پر ایک مباحثہ کیا۔ یالدا حکیم کی جانب سے کیے گئے سوالات نہ صرف پرانی اور فرسودہ معلومات پر مبنی تھے بلکہ ان میں پہلے سے طے شدہ خیالات کا بھی عمل دخل نظر آیا۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا اندازِ سوال جان بوجھ کر متعصبانہ تھا یا یہ صرف جانب دار صحافت کی ایک مثال تھی۔
پروگرام میں یالدا حکیم نے قاری سیف اللہ اختر اور ان کی تنظیم HUJI (حرکت الجہاد الاسلامی) کا بھی ذکر کیا، جو کہ 2017 میں افغانستان میں مارے گئے تھے۔ موجودہ تناظر میں اس طرح کے پرانے اور غیر متعلقہ حوالہ جات دینا حیرت انگیز ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اتنی شدت پسندانہ سوچ کیوں رکھتی ہیں۔
جہاں تک 313 بریگیڈ کا تعلق ہے، تو یہ القاعدہ کے سائے میں بننے والی ایک خفیہ ملیشیا تھی۔ 2003 تک القاعدہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے ٹھکانے مضبوط کرنے شروع کر دیے تھے۔ 313 بریگیڈ کو کئی اہم دہشت گرد کارروائیوں سے جوڑا گیا، جن میں پریڈ لین مسجد پر حملہ، جنرل علوی کا قتل، اور سابق صدر پرویز مشرف پر خودکش حملے شامل ہیں۔ ان تمام حملوں کے تانے بانے 313 بریگیڈ سے جا ملتے ہیں۔ بعد ازاں، 2011 میں جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں اس گروہ کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ الیاس کشمیری کی ہلاکت کے بعد، کئی 313 سے وابستہ افراد کو پاکستانی ریاست نے سزائے موت دی، اور اس بریگیڈ کے ٹھکانوں کو ختم کر دیا گیا، خصوصاً جب پاکستان نے افغانستان سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یالدا حکیم کے سوالات کو دیکھ کر یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید وہ کسی بھارت نواز بیانیے کو فروغ دے رہی ہیں، کیونکہ وہ افغان طالبان کی تمام دہشت گردی کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں — جو کہ ایک غیر منصفانہ اور یک طرفہ نقطۂ نظر ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ ایسے عالمی فورمز پر اپنے مؤقف کی نمائندگی اُن ماہرین سے کروائے جنہیں اس موضوع کی مکمل سمجھ اور تاریخی تناظر کا علم ہو۔ اس قسم کے بیانات، جیسے کہ "طالبان پاکستان کی حمایت کے بغیر کبھی اقتدار میں نہ آتے”، دراصل تاریخ کی پیچیدگیوں کو سادہ بیانیے میں لپیٹ کر پیش کرنا ہے، جسے حقائق کہنا درست نہیں ہوگا۔
Comments are closed.