حکومت نے بجٹ میں غلط اعداد وشمار پیش کئے ہیں‘سینیٹر شبلی فراز نے وفاقی بجٹ کو عوام اور ملک دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا
اسلام آباد(آن لائن)ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے وفاقی بجٹ کو عوام اور ملک دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اورکہاکہ اس وقت ملک میں افراتفری کی صورتحال ہے اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے حکومت نے بجٹ میں غلط اعداد وشمار پیش کئے ہیں۔ حکومت خیبر پختونخوا کو اس کا حصہ نہیں دے رہی ہے صوبے کو پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی سزا دی جارہی ہے‘ پی ٹی آئی کو دبانے کیلئے اس کے پیٹرن چیف کو جیل میں بغیر کسی وجہ کے ڈالا گیا ہے اس کے مقدمات اور ضمانت کی شنوائی نہیں ہورہی ہے‘ملک کے نوجوان طبقے کو بجٹ میں کچھ نہیں دیا گیا ہے جس سے بے روزگار ی میں اضافہ ہورہا ہے‘ وزیر منصوبہ بندی کو شرم آنی چاہیے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو انڈیا کے برابر کھڑا کردیا ہے۔جمعہ کو ایوان بالا میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ اسرائیل کے ایران پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ایران نے اپنے دفاع میں حملہ کیا ہے اور خطے میں غیر یقینی صورتحال ہے اس سے کئی مسائل پیدا ہونگے انہوں نے کہاکہ کسی بھی جنگ کی صورتحال سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے اور ہمارے جیسے ملک جن کی معاشی حالت کمزور ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ ہماری معاشی پالیسیاں گذشتہ تین سال سے غیر حقیقی ہیں اور معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے انہوں نے کہاکہ اس بجٹ نے پی ڈی ایم ٹو حکومت کی جانب سے گذشتہ دو سالوں کے درمیان پیش کئے جانے والے دو بجٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے
انہوں نے کہاکہ جو معاشی اعداد وشمار دئیے گئے ہیں ان پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور بجٹ میں جو الفاظ دکھائے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ یہ بجٹ اعداد و شمار کسی ہیرا پھیری ہے اور پہلے کبھی بھی اس طرح کے اعتراضات نہیں آتے تھے جو اب آئے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت نے جس طرح فروری 2024کے الیکشن میں کیا تھا اسی طرح بجٹ کے دوران اعداد و شمار دکھائے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت نے کسی بھی اقدام کو عوام کی جانب سے کوئی پزیرائی نہیں ملی ہے اور وزیر خزانہ نے خود اس کو تسلیم کیا ہے کہ بعض اعداد وشمار اس نے خود دئیے ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں زراعت اورصنعتی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے انہوں نے کہاکہ زراعت کے شعبے نے ہمیشہ ملک کو سنبھالا دیا ہے مگر جس طرح کے اقدامات اٹھائے گئے اس سے یہ شعبہ بھی تباہ ہوگیا ہے اور کسانوں کونقصان اٹھانا پڑا انہوں نے کہاکہ اس سال بھی بڑی فصلوں کی پیداوار کم ہوگئی ہے اب کپاس کو درآمد کریں گے جو حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں اور خاص افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے سازش ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے دور میں صنعتوں کی صورتحال بہتر تھی مگر اس وقت یہ شعبہ بھی سکڑ گیا ہے اور جو اعداد و شمار دئیے گئے ہیں یہ خودساختہ ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کی کوئی صنعتی پالیسی نہیں ہے اس حکومت میں صنعتوں کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بنک مارکیٹ سے ڈالر خرید کر اپنے ذخائر میں اضافہ کرتا ہے خام مال کی درآمد کیلئے ایل سیز کھولنے میں صنعتوں کو مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے کہاکہ ملک میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے حکومت نے صحت اور تعلیم کے شعبے کا بیڑا غرق کر لیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ بجٹ عوام کے امنگوں کا ترجمان نہیں بلکہ عوام دشمن ہے جو آئی ایم ایف کی شرائط پر بنایا گیا ہے انہوں نے کہاکہ وزیر منصوبہ بندی کو شرم آنی چاہیے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو انڈیا کے برابر کھڑا کردیا ہے انہوں نے کہاکہ سروسز کے شعبہ بھی تباہ ہوگیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ بجٹ عوام کے حقیقی نمائندوں نے نہیں بنایا ہے بلکہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ بجٹ غریبوں کا نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ملکی درآمدات اور برآمدات کم ہوگئی ہیں اور ملک میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری پیدا ہوگئی ہے اور اس وقت آدھے ملک کی آبادی سطح غربت سے نیچے چلی گئی ہے انہوں نے کہاکہ ملک میں 15سے 24سال کے نوجوانوں کو نوکیاں نہیں مل رہی ہیں انہوں نے کہاکہ حکمران اپنے پیسے باہر لے گئے ہیں مگر عوام کیا کریں انہوں نے کہاکہ جن کے پاس پیسہ ہے اور جو نوجوان مایوس ہیں وہ ملک سے باہر جا رہے ہیں اور گذشتہ دو سالوں کے دوران 30لاکھ کے قریب نوجوان ملک سے باہر جا چکے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت بیرون ممالک پاکستانیوں کی کوئی قدر نہیں کرتی ہے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اس وقت پاکستان سے افغانستان کی معیشت بہتر ہورہی ہے
انہوں نے کہاکہ حکومت نے ملک کے کسی بھی طبقے کو معاف نہیں کیا ہے آج پنشنرز رو رہے ہیں تنخواہ دار طبقہ پریشانی کا شکار ہے ملک میں کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں سکول کی سٹیشنری پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ادارے غیر فعال ہوچکے ہیں اور ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایک ایسا ماحول بن گیا ہے جس میں ادارے کام نہیں کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بنک،ایس ای سی پی،سی سی پی سمیت تمام مالیاتی اداروں سے زیادہ اہم الیکشن کمیشن نے جو انتخابات کرایا ہے اس کا حشر سب نے دیکھا ہے ان کا کام صاف شفاف اورغیر جانبداز الیکشن کرانا ہے تاہم اس میں وہ بری طرح ناکام رہے ہیں اور اپنی آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے کی بجائے ایک فریق بن چکا ہے انہوں نے کہاکہ آج یہ ایوان نامکمل ہے دیگر صوبوں کے انتخابات ہوجاتے ہیں مگر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا الیکشن نہیں ہورہا ہے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر رہائی نہیں ہوئی استحقاق کمیٹی کا کوئی فائدہ نہیں ہے ہمارے اوپر دفتر میں بیٹھے آیف آئی آر درج کردی جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ وزیر اعظم بیرون ممالک دوروں سے اب تک ملک کیلئے کونسی سرمایہ کار ی لائے ہیں انہوں نے کہاکہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ خطرناک حد تک چلا گیا ہے اور اب کمرشل بنکوں سے قرضہ لیکر گردشی قرضہ ادا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں یہ حکومت کی نالائقی اور کرپشن ہے گذشتہ تین سالوں کے دوران حکومت نے کوئی سٹرکچرل تبدیلیاں نہیں کی ہیں اور اب عوام پر قرضوں کا بوجھ ڈالا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ وزارت توانائی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں انہوں نے کہاکہ نجکاری کی وزارت کو بند کردینا چاہیے حکومت ایک نجکاری نہیں کرسکی پی آئی اے کی خریداری کیلئے ایک پراپرٹی ٹائیکون نے 10ار ب کی بولی دی جو کہ شرمناک ہے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے انہوں نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں 100ارب روپے رکھے گئے ہیں
جس میں خیبر پختونخوا کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے یہ ایک فرسودہ طریقہ کار ہے جس میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے انہوں نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں ڈیمز کے منصوبوں کیلئے 166ارب روپے رکھتے گئے ہیں جبکہ سڑکوں کیلئے 277ارب روپے رکھنے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کو ایسے اختیارات دے دئیے گئے ہیں جس سے ملک کا تجارتی شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے کمشنر کو اکاؤنٹس فریز کرنے اور تاجروں کو گرفتار کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اس سے صورتحال ٹھیک نہیں ہوسکتی ہے انہوں نے کہاکہ ایف بی آر اپنے لئے ہزار گاڑیاں لے سکتا ہے مگر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے انہوں نے کہاکہ حکومت ہر کام ڈنڈے کے زور پر کرنا چاہتی ہے اور عوام کو ریوڑ سمجھ لیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے اس ایوان میں عوام کیلئے کیا کیا ہے اس وقت ملک میں مڈل کلاس اور غریب لوگوں کی کمر توڑ دی گئی ہے سفید پوش طبقے کو برہنہ کردیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے مگر اس صوبے کی معیشت تباہ ہوگئی،ثقافت تباہ ہوئی،عوام بے یارو مدد گار ہے اس صوبے کے بقایا جات وفاق ادا نہیں کررہا ہے حکومت نے قبائلی اضلاع کو جو مراعات دی تھی وہ بھی واپس لے لی ہیں انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کو پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی پاداش میں سزا دی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے الیکشن نہیں کرائے جارہے ہیں اور آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہوگا اور کون اس کا جواب دے گاانہوں نے کہاکہ آج بھی صوبے میں دہشت گردی کی جنگ جاری ہے مگر وفاق اس کو اپنا حق نہیں دے رہا ہے انہوں نے کہاکہ اگر معیشت بہتر ہوگی تو عوام خوشحال ہوگی۔
Comments are closed.