ایران پر اسرائیل کاحملہ‘ پاسداران انقلاب کے سربراہ، آرمی چیف سمیت اہم کمانڈوز اور 6 جوہری سائنسدان شہید

تہران،تل ابیب(آن لائن)ایران کے خلاف اسرائیل کے جارحانہ حملے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ، آرمی چیف سمیت اہم کمانڈوز اور 6 جوہری سائنسدان اور 5شہری شہیدہوگئے جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر خاص کمانڈر علی شمخانی بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ایران سے درپیش خطرے کا خاتمہ ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ایران کے درجنوں جوہری پروگرام اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے تصدیق کی ہے کہ تہران پر کیے گئے اسرائیلی حملوں میں مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری اور پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی جاں بحق ہو گئے۔ ایران کے جوہری سائنسدان محمد مہدی طہرانچی اور ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے سابق سربراہ فریدون عباسی سمیت خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد کی موت کی بھی تصدیق کردی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایران کے 6 جوہری سائنسدان مارے گئے ہیں جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر خاص کمانڈر علی شمخانی بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں میں تہران کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 5 شہری جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے۔ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی نے دعوی کیا ہے کہ حملوں کا نشانہ عام شہری علاقوں کو بنایا گیا، جہاں خواتین اور بچوں کی لاشیں دیکھی گئی ہیں۔تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کی تصاویر سرکاری ٹی وی اور عینی شاہدین کی رپورٹوں میں بھی نشر کی گئی ہیں۔پریس ٹی وی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری ویڈیوز میں نطنز (اصفہان)میں اسرائیلی میزائل حملے کے مناظر اور دھماکوں کے بعد اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بادل نمایاں طور پر دکھائے گئے ہیں۔برطانوی میڈیا نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں دو سینئر جوہری سائنسدان مارے گئے جن کی شناخت کر لی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں سے ایک ڈاکٹر فریدون عباسی ہیں، جو ایرانی ایٹمی توانائی ادارے (AEOI) کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ یہ ادارہ ایران کی جوہری تنصیبات کا ذمہ دار ہے۔یاد رہے کہ فریدون عباسی پر 2010 میں تہران کی ایک سڑک پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا، جس میں وہ بچ گئے تھے۔دوسرے سائنسدان محمد مہدی طہرانچی ہیں، جو تہران میں اسلامی آزاد یونیورسٹی کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ ایران پر ہونے والے حملے کو اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کا نام دیا ہے، صیہونی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے، اور مزید حملے اس سے زیادہ طاقتور اور خطرناک ہوں گے

، فوجی حکام کا مزید کہنا تھا کہ یہ حملے مزید دو ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ چند لمحے قبل اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کا آغاز کیا، جو ایک مخصوص فوجی کارروائی ہے۔ اس کا مقصد ایران کے اس خطرے کو پیچھے دھکیلنا ہے جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ پھیلا مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار تو نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں کیے تھے، اگر اسے نہ روکا گیا تو ایران چند ماہ یا ایک سال سے بھی کم عرصے میں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو سکتا ہے۔وزیرِاعظم نیتن یاہو نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملے ایران کے جوہری پروگرام اور عسکری تنصیبات پر مرکوز ہیں۔اسرائیلی فوج کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کا جوہری پروگرام، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور دیگر اہم عسکری تنصیبات تھیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

Comments are closed.