اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے ججز کی سنیارٹی اور ٹرانسفر سے متعلق اہم آئینی مقدمے کا فیصلہ سنا تے ہوئے اسلام آبادہائی کورٹ ججزکی درخواستیں نمٹادیں فیصلے میں کہاگیاہے کہ ججز کا تبادلہ غیر آئینی نہیں ہے۔عدالت نے تین دو کی اکثریت سے ججز کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔سپریم کورٹ نے کہاکہ ججز کا تبادلہ غیرآئینی نہیں،عدالت نے کہاہے کہ مندرجہ بالا بحث کے نتیجے میں، ہم جزوی طور پر تبادلے کا نوٹیفکیشن کوچھیڑے بغیرججز کی سنیارٹی کا معاملہ صدر پاکستان کو ریمارنڈ کرتے ہیں۔ صدر پاکستان سنیارٹی کا تعین کرنے کے لیے بطور ٹرانسفر ججز کے سروس ریکارڈ کی جانچ کریں اور جتنی جلدی ممکن ہو، اس سوال سمیت کہ آیا ٹرانسفرمستقل یا عارضی بنیادوں پر ہے۔سپریم کورٹ نے دو تین کی اکثریت سے کیس کا فیصلہ سنایا اور 3 ججز نے ججز کے ٹرانسفر کو آئینی قرار دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سرفراز ڈوگر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے طور پر کام جاری رکھیں گے۔ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال اور جسٹس صلاح الدین نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا۔جبکہ جسٹس نعیم اخترافغان اورجسٹس شکیل احمدنے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے اوراسلام آبادہائی کورٹ ججزکی درخواستوں کومنظورکیاہے۔
اکثریتی فیصلے میں مزیدکہاگیاہے کہ صدرمملکت کی جانب سے ہائی کورٹ ججزکے تبادلے کے لیے جونوٹیفکیشن جاری کیاگیاہے وہ قانون کے مطابق ہے۔ہماری دانست میں عام حالات میں سنیارٹی کے درمیان تنازعات یا اختلافات پرہائی کورٹ کے جج چیف جسٹس کے دائرہ اختیار میں ہیں۔اس ہائی کورٹ کی، انتظامی طرف فیصلہ کرتے ہیں۔، لیکن یہاں معاملہ دیگر ہائی کورٹس سے ججوں کے تبادلے سے متعلق ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس طرح سنیارٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔تاہم تبادلہ ہوکرآنے والے اور موجودہ ججزکے درمیان سینارٹی کے معاملے پرجھگڑے کی وجہ سے اس موڑ پر،یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہے کہ کوئی بھی ہائی کورٹ کے ججوں کی کیڈر/متحد یا مشترکہ سنیارٹی لسٹمنتقلی کے وقت ان کی سنیارٹی کا تعین کیاجاتا۔ لہذا، میں ہمارا نظریہ یہ ہے کہ تبادلے کے وقت ہی منتقلی کی شرائط و ضوابط (مستقل یاعارضی) بشمول سنیارٹی طے کی جانی چاہیے تھی۔جس کا تذکرہ صدر پاکستان نے کے آرٹیکل 200 کے مطابق نوٹفکیشن جاری کیاتھا۔دوسری جانب سنیارٹی طے ہونے تک قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر امور انجام دیتے رہیں گے۔جسٹس نعیم اختر افغان اورجسٹس شکیل احمد نے اختلافی نوٹ دیا۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام ا?باد میں ججز ٹرانسفر کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے،ٹرانسفر کے معاملے پر صدر مملکت نے آئینی خلاف ورزی کی،آئین ٹرانسفر ججز کو مستقل طور پر ہائیکورٹ کا جج بنانے کی اجازت نہیں دیتا، ججز کا تبادلہ جلد بازی میں کیاگیا اور وجوہات بھی نہیں دی گئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کا تبادلہ بدنیتی پر مبنی تھا۔یہ مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی و تبادلے سے متعلق دائر درخواستوں پر سنا گیا۔ پانچ رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظہر کر رہے ہیں، نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔کیس کی سماعت کے دوران عدالتی بینچ نے ججز کی سنیارٹی، تقرری اور تبادلے کے قانونی پہلووٴں پر تفصیل سے غور کیا۔
صدرِ مملکت کی جانب سے مختلف ہائی کورٹس کے ججز کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کیے جانے کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں سنیارٹی کا ایک سنگین آئینی تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب وزارت قانون و انصاف نے یکم فروری 2024 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف کو اْن کی متعلقہ ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے 20 فروری کو سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی۔ اس درخواست میں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت موٴقف اختیار کیا گیا کہ صدرِ مملکت کو آرٹیکل 200(1) کے تحت ججز کے تبادلے کے لامحدود اختیارات حاصل نہیں ہیں، اور مفادِ عامہ کے بغیر ایک ہائی کورٹ کے جج کو دوسری ہائی کورٹ منتقل نہیں کیا جا سکتا۔یہ 49 صفحات پر مشتمل آئینی درخواست سینئر وکلاء منیر اے ملک اور بیرسٹر صلاح الدین کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ وہ اس معاملے پر آئینی تشریح دے تاکہ مستقبل میں عدلیہ کی آزادی اور ججز کی خودمختاری متاثر نہ ہو۔اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سنیارٹی لسٹ میں نظرثانی کرتے ہوئے مذکورہ ججز کی سنیارٹی کم کر دی تھی۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس میں ججز کی تقرری اور تبادلہ کو الگ تصور کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے چیف جسٹس نے پانچوں ججز کی درخواست مسترد کر دی تھی۔تاہم، ججز نے موٴقف اختیار کیا کہ سنیارٹی میں رد و بدل اْن کے عدالتی مستقبل کو متاثر کرتا ہے، جس سے نہ صرف اْن کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ عدلیہ کی داخلی خودمختاری پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
Comments are closed.