اسلام آباد (آن لائن )دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ابھی تک ایران نے پاکستان سے کسی قسم کی دفاعی امداد کی درخواست نہیں کی, برادر اسلامی ملک ایران میں جو ہو رہا ہے ہمارے لیے سنجیدہ اور شدید تحفظات کا باعث ہے, ابھی تک 3000 پاکستانیوں کو ایران سے واپس لایا جا چکا ہے ایران نے ایرانی مہاجرین کو پاکستان لانے کی کوئی درخواست نہیں کی۔صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ ابھی تک ایران نے پاکستان سے کسی قسم کی دفاعی امداد کی درخواست نہیں کی ایران کی جانب سے مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دینے کے حوالے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی, اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جانا آئی اے ای اے سیف گارڈز اور دیگر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے شفقت علی خان نے واضح کیا کہ ایران کے حوالے سے پاکستان کا موقف نہایت واضح, غیر مبہم اور شفاف ہے, ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں ہم اسرائیل کے پاگل پن کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ایران کی بھرپور اخلاقی حمایت کرتے ہیں اقوام متحدہ چارٹر کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اسرائیلی جارحیت ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں کرٹسی پر مبنی جملے سفارتی اہمیت کی حامل ہے امریکی صدر کے کرٹسی کے جملے مثبت انداز میں تھے دفتر خارجہ نے بھارت کی لداخ پر نئی ریگولیشنز کو مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ و عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہویے واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف کسی بھی مذاکراتی حل کی حمایت کرتے ہیں۔
Comments are closed.