ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال سے متعلق پروپیگنڈا اور اصل حقائق
امریکی طیارے ایران کے 1800 کلومیٹر طویل جنوبی ساحلی علاقے کے اوپر سے بھی پرواز کر سکتے ہیں۔امریکی طیارے متحدہ عرب امارات، عمان اور قطر کے اوپر سے بھی اُڑان بھر سکتے ہیں۔ یہ دونوں راستے پاکستان کے مقابلے میں ہدف تک کہیں زیادہ مختصر اور آسان ہیں۔مزید برآں، خطے یا شاید دنیا کا کوئی ملک B-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کا سراغ لگانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔یہ طیارے ریڈار پر نظر نہیں آتے، لہٰذا ان کے راستے کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں محض جھوٹ پر مبنی ہیں۔
درحقیقت یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ امریکی طیارے جنوبی بھارت کے اوپر سے اُڑتے ہوئے بحیرہ عرب میں داخل ہوئے اور وہاں سے ایران میں داخل ہوئے۔پاکستان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دورۂ امریکہ کے دوران بھرپور کوشش کی کہ امریکہ خود کو اسرائیل کی پیدا کردہ صورتحال میں ملوث نہ کرے۔
پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ ہونے والی تکلیف اور مصیبت پر دل کی گہرائیوں سے افسردہ ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔صدر ٹرمپ نے جب ان حملوں کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ساتھ امن کی طرف رجوع کا بیان بھی دیا۔ یہ ان کے پہلے جارحانہ مؤقف سے ایک نمایاں تبدیلی تھی، جو کہ جنرل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔پاکستان کی حکومت کا مؤقف امریکی حملوں کی مذمت اور جنرل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں—دونوں کے حوالے سے نہ تو متضاد ہے اور نہ ہی مبہم۔یہ دونوں پہلو ایک ہی اصولی مؤقف سے نکلتے ہیں: ایران کے خلاف جارحیت کی غیر مشروط مذمت، برادر ایرانی قوم سے مکمل یکجہتی، اور تمام معاملات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ۔
اسی طرح صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے اور ان کی طرف سے ایران پر حملے کی اجازت دینے میں بھی کوئی تضاد نہیں۔یہ نامزدگی حملوں سے 24 گھنٹے پہلے کی گئی تھی، اور اس کی بنیاد صدر ٹرمپ کے اس کردار پر تھی جو انہوں نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کو روکنے میں ادا کیا۔اس کے علاوہ، اس نامزدگی کا مقصد اُن پر اخلاقی دباؤ ڈالنا بھی تھا تاکہ وہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو جلد از جلد ختم کرانے میں کردار ادا کریں۔ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ کا اسی بیان میں حملے کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں کمی کا اشارہ دینا بھی اسی اخلاقی دباؤ کا نتیجہ ہو۔
Comments are closed.