سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے حامدخان ایڈووکیٹ کی جانب سے مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کے التواکی درخواست مستردکردی
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے حامدخان ایڈووکیٹ کی جانب سے مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کے التواکی درخواست مستردکردی ہے‘ بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہاہے کہ آپ سینئر ہیں، لیکن سارے دلائل مکمل ہو چکے، اور آپ تیسرے وکیل ہیں۔ حامد خان نے کہا کہ اگر عدالت التوا کی درخواست مسترد کرتی ہے تو آگاہ کر دیں، جس پر بینچ نے التوا کی درخواست باضابطہ مسترد کر دی۔جبکہ سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے ہیں کہ لگتا ہے پی ٹی آئی میں رابطے کا فقدان تھا۔بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس میں دیکھنا ہے الیکشن کمیشن نے آئین سے روگردانی کی یا سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہم نے آپ کوآوٴٹ آف وے جاکرریلیف دیاجس پر آپ کے رہنماء نے بھی کہاتھاکہ یہ ہمیں کیسے مل گیاآپ بتائیں آپ کویہ ریلیف مل سکتاتھااس پر حامدخان نے کہاکہ سپریم کورٹ کی تاریخ دیکھی جائے تونہیں مل سکتا تھا۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ پارٹی نشان نہ ملنے سے سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں ہوتی۔ پی ٹی آئی امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کی لیکن سنی اتحاد کونسل پارلیمنٹ میں موجود ہی نہیں تھی۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں۔مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی آئینی بینچ نے کی، جس میں پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیے۔وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں سندھ ہائیکورٹ بار کیس کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ فیصلہ مثال ہے کہ عدالت آئین بحالی کے لیے مداخلت کرتی رہی ہے۔ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے بعد کئی اقدامات کیے گئے۔ سپریم کورٹ نے اس ایمرجنسی کو غیر آئینی کہا۔ اس ایمرجنسی کے بعد کیے گئے تمام اقدامات بھی کالعدم کیے گئے۔سلمان اکرم راجا نے مشرف دور کی ایمرجنسی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے قرار دیا کہ ایمرجنسی کے بعد لگائے گئے ججز کی حیثیت نہیں تھی۔ عدالت نے ججز کو ہٹائے جانا بھی غلط قرار دے کر بحال کیا۔
الیکشن ایکٹ سیکشن 66 کے مطابق کسی بھی پارٹی کا امیدوار بننے کے لیے 2 اصول ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ کو پارٹی ٹکٹ فائل کرنا چاہیے یا نہیں۔ کیا اس کا کوئی ثبوت ہو گا؟۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ایسا کوئی ثبوت ججمنٹ میں ڈسکس ہوا ہے؟۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کتنے امیدواروں نے مینشن کیا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے؟، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے جو ریکارڈ پیش کیا اس کے مطابق 39 نے مینشن کیا۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کہتے ہیں 39 آپ کی اس 80 کی لسٹ سے لیا گیا ہے۔ یہ ریکارڈ یا ثبوت عدالت کے سامنے پہلے نہیں تھے۔ وکیل نے کہا کہ میں نے وہ لسٹ اپنی سی ایم اے کے ساتھ فائل کی ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ سیکڑوں ڈاکومنٹس فائل کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی روک نہیں سکتا۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی شخص پارٹی ٹکٹ فائل کرنے میں ناکام ہو وہ آزاد تصور ہو گا۔دوران سماعت سلمان اکرم راجا نے 2013، 2018 اور 2024 کے عام انتخابات میں مخصوص نشستوں کے تناسب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ جس سیاسی جماعت نے جتنی جنرل نشستیں لیں تقریباً اسی تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں، لیکن حالیہ عام انتخابات میں صورتحال مختلف ہے۔ خیبر پختونخوا میں 83 فیصد جنرل نشستیں لینے والی پارٹی کو صفر مخصوص نشستیں ملیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی سیاست دان کو آزاد الیکشن لڑنے سے کیسے روک سکتی ہے؟۔ فرض کریں عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو یا مولانا فضل الرحمن پارٹی کے بڑے لیڈرز ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی کہے ہم نے آزاد الیکشن لڑنا ہے تو ہم کیسے انہیں روک سکتے ہیں؟۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ پارٹی نشان نہ ملنے سے سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں ہوتی۔ پی ٹی آئی امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کی لیکن سنی اتحاد کونسل کو پارلیمنٹ میں موجود ہی نہیں تھی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کیس فیصلے کا حوالہ دیا، وہاں تو تسلیم شدہ حقائق تھے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ 1985 کے انتخابات میں ایک سیاسی جماعت نے کہا ہم عوام دوست جماعت ہیں۔ کیا آپ نے بھی ایسی کوئی اصطلاح متعارف کرائی، جس پر وکیل نے بتایا کہ جی ہاں! ہم نے کپتان کا سپاہی کی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ لگتا ہے پی ٹی آئی کے اندر کوآرڈینیشن کا فقدان تھا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے جن 39 اراکین اسمبلی نے سیاسی وابستگی پی ٹی آئی ظاہر کی وہ زیادہ عقل مند تھے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زیادہ عقل مند تھے یا پھر زیادہ دباوٴ برداشت کرنے والے تھے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی ارکان کو آزاد قرار دینے کیخلاف آپ نے مکمل قانونی جنگ لڑی یا راستے میں سب چھوڑ دی؟، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ہم نے ادھوری نہیں چھوڑی، آپ الزام لگانا چاہیں تو بے شک لگائیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا،ہم نے سوچا اب الیکشن کے بعد دیکھیں گے۔ ہمیں الزام نہ دیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اپیل آپ فائل نہ کریں تو الزام کسے دیں پھر؟سلمان راجہ نے کہاکہ 41امیدواروں نے وابستگی کو ظاہر نہیں کی یا اگر کی تو اس کو تسلیم نہیں کیا گیا،
مرکزی کیس میں الیکشن کمیشن نے کئی دستاویزات لا کر دیں، 2دن ہم نے ان پر بحث کی،الیکشن کمیشن کے اقدامات کو جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل نے بھی غلط قرار دیا، الیکشن کمیشن فیصلے کے بعد بھی کسی فہرست کو تسلیم نہیں کر رہا تھا،22دسمبر کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان سے محروم کیا، 23کو کہا فہرستیں تسلیم نہیں کریں گے،جب کاغذات نامزدگی کی ا?خری تاریخ پر پی ٹی ا?ئی کی وابستگی تسلیم نہیں کی تو عدالت آنا پڑا۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق 12 جولائی کے مختصر حکم نامے میں الیکشن رول 94 کو غیر آئینی قرار نہیں دیا گیا۔ رول 94 کو تفصیلی فیصلے میں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ جو شارٹ آرڈر میں نہ ہو کیا اسے تفصیلی وجوہات میں زیر بحث لایا جاسکتا ہے؟۔ ہوسکتا ہے مستقبل میں ایسے سوالات سامنے آئیں۔ تفصیلی وجوہات تو شارٹ آرڈر پر ہی ہوتی ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالت بعض اوقات شارٹ آرڈر میں درخواست مسترد یا منظور کرتی ہے۔ پھر تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جاتی ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ آپ نے انٹرا پارٹی انتخابات دوبارہ کیوں نہیں کرائے؟ سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ کرائے گئے تھے، مگر وہ بھی چیلنج ہو گئے۔ جب عدالت نے فہرستیں مانگیں تو جمع کرائیں، لیکن الیکشن کمیشن نے تسلیم نہ کیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ 24 جنوری تک آپ کو یقین تھا کہ پی ٹی آئی جماعت ہے، پھر مخصوص نشستوں کی فہرست کب جمع کرائی؟ وکیل نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے 2 فروری کا آرڈر 7 فروری کو جاری کیا، یہ بدنیتی ہے۔دلائل کے اختتام پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں 33 فیصد ووٹ لینے والی جماعت کو نہ دینا آئینی ناانصافی ہے۔
ان کے بقول، ’خان کا سپاہی‘ جیسے نعرے استعمال کیے گئے، پی ٹی آئی بینر لگائے گئے، مگر الیکشن کمیشن ان تمام علامات کو مسترد کرتا رہا۔ ہمیں کہا گیا کہ جہا ں پی ٹی آئی لکھا ہو وہ بینر ہٹا دیا جائے۔جسٹس ہلالی نے سوال اٹھایا کہ جو جماعت پارلیمانی نہ ہو کیا اسے مخصوص نشستیں دی جا سکتی ہیں؟ وکیل نے کہا کہ 10 ججز نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے دوسری جماعتوں کو غیر آئینی طور پر اضافی نشستیں دینے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ نظرثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے، اور صرف وہ فیصلے زیرِغور آ سکتے ہیں جو غیر آئینی ہوں۔ جسٹس مظہر نے کہا کہ نظرثانی کے دائرے مختلف مقدمات میں مختلف ہو سکتے ہیں۔سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہونے پر حامدخان نے کہاکہ انھوں نے التوائکی درخواست دی تھی جس پر جسٹس امین نے کہا کہ آپ سینئر ہیں، لیکن سارے دلائل مکمل ہو چکے، اور آپ تیسرے وکیل ہیں۔ حامد خان نے کہا کہ اگر عدالت التوا کی درخواست مسترد کرتی ہے تو آگاہ کر دیں، جس پر بینچ نے التوا کی درخواست باضابطہ مسترد کر دی۔سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامدخان نے دلائل میں موقف اختیارکیاکہ الیکشن کے بعدصرف تین دن دیے گئے اور پھر بازارلگ گیاہم سنی اتحاد کونسل میں چلے گئے،کیاکرتے،عملی طورپرپی ٹی آئی اورسنی اتحادکونسل میں کوئی فرق نہیں ہے اس پر جسٹس امین الدین نے کہاکہ اس موقف سے معاملہ توپھراکثریتی فیصلے کے خلاف چلاجائیگاجسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہم نے آپ کوآوٴٹ آف وے جاکرریلیف دیاجس پر آپ کے رہنماء نے بھی کہاتھاکہ یہ ہمیں کیسے مل گیاآپ بتائیں آپ کویہ ریلیف مل سکتاتھااس پر حامدخان نے کہاکہ سپریم کورٹ کی تاریخ دیکھی جائے تونہیں مل سکتا تھا۔ حامدخان اپنے دلائل آج جمعہ کوبھی جاری رکھیں گے۔
Comments are closed.