سوات واقعہ پر ڈی سی نہیں وزیر اعلی کے پی کے کو معطل ہونا چاہیے ، عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوے کہا ہے کہ قدرتی آفات کے دوران لوگوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنا حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن حالیہ دریائے سوات واقعہ نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود متاثرہ افراد کو ریسکیو نہیں کیا گیا۔ واقعہ پر ڈی سی نہیں وزیر اعلی کے پی کے کو معطل ہونا چاہیے۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوے انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔ ڈی سی کو معطل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اصل ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو استعفیٰ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 سالوں سے تحریک انصاف کی حکومت ہے، لیکن اتنے طویل عرصے میں بھی ایک موٴثر ریسکیو نظام قائم نہیں کیا جا سکا۔ یہ سیاحوں کی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے نظام کی موت ہے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 کا قیام چوہدری پرویز الٰہی کا ایک مثالی قدم تھا جس کی تقلید دیگر صوبوں کو بھی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا خیبرپختونخوا کے عوام کا ٹیکس کا پیسہ پی ڈی ایم اے جیسے اداروں کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن ان کی کارکردگی صفر ہے۔ علی امین گنڈا پور کو تنقید کا نشانہ بنا تے ہوے انہوں نے کہا کہ وہ اڈیالہ جیل کو اپنا کیمپ آفس بنائے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگوں کو ٹینٹ دینا ان کی ذمہ داری نہیں۔ ان کا اصل کام اسلام آباد پر چڑھائی کرنا اور لوگوں کو ڈنڈے فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن کے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں، اور عوام کی جانیں ضائع ہونے کے بعد تجاوزات کی یاد آنا حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف ٹویٹ کرنا ہو تو تحریک انصاف سب سے آگے ہوتی ہے، لیکن جب بات عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ہو، تو مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو امن و امان کی صورتحال پر بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ موجودہ حکومت نہ صرف ریسکیو بلکہ امن قائم کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس موقع پر وزیر مملکت قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز نے مخصوص نشستوں کے 12جولائی کے فیصلے کو آئین میں دوبارہ تحریر کیا، سنی اتحاد کونسل نے مقررہ وقت نے امیدواروں کی فہرست جمع نہیں کرائی۔انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کا اسمبلی میں وجود ہی نہیں اسے کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا مخصوص نشستوں کے نظر ثانی کیس میں نو ججز نے متفقہ فیصلہ دیا۔ سنی اتحاد کونسل نے اپنے انتخابی نشان سے الیکشن نہیں لڑا ۔ آئین کسی کی سوچ کے تحت نہیں چل سکتا ۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ مانتے ہیں تو سپریم کورٹ کا بھی ماننا ہو گا ۔ انہوں نے کہا آ ئین کے تحت مخصوص نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتی ۔ کسی کو آئی ری رائٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ آئین میں ردو بدل کا حق صرف پارلیمان کو ہے ۔ انہوں نے کہا عدالت کے فیصلے سے آئین اور قانون کا بول بولا ہوا ، سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوے فیصلے کو ماننا چاہیے ۔

Comments are closed.