الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد کمیشن کے خلاف تنقید اور ہرزہ سرائی مستر د کردی

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد کمیشن کے خلاف تنقید اور ہرزہ سرائی کو مسترد کردیا ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے آیینی بنچ کے حالیہ فیصلے کے بعد میڈیا پر بعض حلقے الیکشن کمیشن کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں الیکشن کمیشن اس پروپیگنڈے کو حقائق کے برعکس اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتا ہے ترجمان کے مطابق تاریخی حقائق اور اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلے اس امر کے ناقابل تردید شواہد فراہم کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ہمیشہ اپنے فرائض آئین و قانون کی روشنی میں ادا کیے ہیں ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے موٴقف کی بارہا عدالتی توثیق کی گئی ہے جس میں سینیٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری اور ہاتھ اٹھانے کے طریقہ? کار کے متعلق الیکشن کمیشن کے موٴقف جو کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے عین مطابق تھا کو سپریم کورٹ کے بنچ نے جس کی سربراہی اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد کر رہے تھے،

ترجمان کے مطابق ڈسکہ الیکشن میں کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے بنچ جس کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال تھے نے نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اسے ایک آئینی اقدام تسلیم کیا ترجمان کے مطابق پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق الیکشن کمیشن کی قانونی تشریح کو بھی سپریم کورٹ کے بنج نے اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں درست قرار دیتے ہوئے اس کی توثیق کی ترجمان کے مطابق آل پاکستان مسلم لیگ کی ڈی لسٹنگ کے کیس میں جب الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر اے پی ایم ایل کو ڈی لسٹ کر دیا۔ اور اس فیصلے کو پارٹی کیطرف سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اس کے بعد کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے

ایسی متعدد جماعتوں کو ڈی لسٹ کر دیا جو قانون پر عمل کرنے سے قاصر رہیں ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ نے پنجاب الیکشن ٹربیونلز سے متعلق الیکشن کمیشن کی اپیل کو منظور کیا اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار نہ رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے موٴقف کو تسلیم کیا ترجمان کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں بھی پہلے پشاور ہایکورٹ نے اور اب عدالت عظمیٰ کے آیینی بنچ نے الیکشن کمیشن کے موٴقف کو آئینی و قانونی قرار دیتے ہوئے اس کو برقرار رکھا۔یہ تمام بیان کردہ اور انکے علاوہ متعدد دیگر عدالتی فیصلے اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ الیکشن کمیشن کسی بھی قسم کے سیاسی دباوٴ، عوامی شور یا سستی مقبولیت کے لیے اپنے فیصلوں میں ترمیم نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اور صرف آئینی تقاضوں، قانونی دائرہ کار اور شواہد کی بنیاد پر اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو کسی سیاسی جماعت یا مفاداتی گروہ کے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والا ادارہ نہیں. لہذا اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کو ٹھرانے کی روش کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے۔۔۔

Comments are closed.