پانی چوبیس کروڑ پاکستان عوام کی لائف لا ئن ہے، وزیراعظم

بھارت پانی کو خطے کے امن کے لئے خطرناک ہتھیار بنا رہا ہے، کسی صورت آبی جارحیت نہیں کرنے دیں گے، شہباز شریف پاکستان مو سمیاتی تبدیلی سے متاثرہ دس سر فہرست ممالک میں شامل ہے، ای سی او اجلاس سے خطاب

باکو (آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی چوبیس کروڑ پاکستان عوام کی لائف لا ئن ہے ۔ بھارت پانی کو خطے کے امن کے لئے خطرناک ہتھیار بنا رہا ہے کسی صورت آبی جارحیت نہیں کرنے دیں گے ، پاکستان مو سمیاتی تبدیلی سے متاثرہ دس سر فہرست ممالک میں شامل ہے ۔ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ ای سی او کے سترہویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وزیراعظم نے ای سی او سمٹ کے کامیاب انعقاد پر آذری صدر کو مبارکباد دیتے ہوے کہا سمٹ کا موضوع عالمی منظر نامے میں ٹیکنا لوجیکل تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ بڑھتے ہوے باہمی انحصار اور علم کی وسعت کا نیا دور شروع ہو رہا ہے ۔ علاقائی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کیلئے ٹیکنالوجی کی ترقی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے

، ای سی او رکن ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی پالیسی وضع کر لی ہے۔ 2022 میں پاکستان نے تباہ کن سیلاب کا سامنا کیا، سیلاب میں 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے، املاک کو نقصان پہنچا، انہوں نے کہا کہ ای سی او رکن ممالک کو بھی مو سمیاتی تبدیلیوں کے گہرتے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا پگھلتے گلیشئیرز ، شدید گرمی تباہ کن سیلاب ، اور دیگر چئیلنجز کا تمام ممالک کو سامنا ہے ۔ فلیش فلڈز بھی دل دہلا دی ینے والی تباہی مچاتے ہیں ۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے چار تجاویز بھی پیش کیں ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے متاثرہ اضلاع میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ فلیش فلڈز جیسی صورتحال کی تناظر میں اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پالیسی وضع کی ہے۔ بحالی اور تعمیر نو کے لیے 4نکاتی پلان پر توجہ مرکوز ہے۔

وزیراعظم نے کاربن اخراج میں کمی، کاربن مارکیٹ پلیٹ فارم اور مزاحمتی نظام کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار نمو کے لیے موسمیاتی فنانسنگ کو فعال کرنا بہت اہم ہے۔ مزید برآں توانائی کوریڈورز اور ایکو ٹورازم کے لیے اقدامات تیز کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی پیدا کرنے والی قوتیں اپنے مقاصد کے لیے خطے میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔ ایران پر غیر قانونی اور غیر منطقی اسرائیلی حملے اس رجحان کا سب سے حالیہ مظاہرہ تھے۔ بیرونی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو خطرے میں لپیٹنے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا ۔ انہوں نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر ای سی او کے رکن ممالک کی جانب سے پاکستان کی بھر پور حما ئت پر اظہار تشکر کرتے ہوے کہا بھارت نے پاکستان پر حملہ کر کے خطے کا امن خطرے میں ڈالا ۔

پاک فوج نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں بھارتی جارحیت کا بھر پور جواب دیا ۔ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے ایک واقعے کا الزام عائد کر کے کے پاکستان کو حملے کا نشانہ بنا یا ۔ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ پانی چوبیس کروڑ پاکستانی عوام کی لائف لائن ہے ۔ کسی صورت میں بھات کو آبی جارحیت کی ا جازت نہیں د ی جا سکتی ۔ عالمی عدالت نے بھی بھارت کے سندھ طاس معائد ے کی معطلی کو مسترد کیا ہے ۔ وزیراعظم نے اسرائیل کی غزہ میں بھی بدترین جارحیت کی بھی شدید مذمت کرتے ہوے کہا غزہ میں تباہی کا سامنا ہے لگتا ہے وہاں انسانیت کا وجود ہی نہیں ہے ۔ غزہ کے عوام عالمی برادری کی امداد کے منتظر ہیں۔

عالمی برادری کو غزہ کے معاملے میں اہنی خاموشی توڑنی ہو گی ۔ وزیرا عظم نے کشمیر میں بھارتی بربریت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے ۔ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ممکن نہیں ۔ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے ۔ ہم قدیم اور معرو ف شا ہراہ ریشم کے مالک ہیں ۔ لاہور پاکستان کا ثقافتی دل ہے ۔ ہم ای سی او اراکین کو لاہور کے دورے کی دعوت دیتے ہیں ۔

Comments are closed.