سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت کا فیصلہ بھارت کو اس پر یکطرفہ اقدامات کا کوئی حق حاصل نہ ہونے کا ثبوت ہے ، دفتر خارجہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنا سفارتی محاذ پر ایک بڑی پیشترفت ہے، ترجمان شفقت علی
اسلام آباد (آن لائن) دفتر خارجہ نے سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوے ہوے کہا کہ فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی موٴثر اور فعال ہے، اور بھارت کو اس پر یکطرفہ اقدامات کا کوئی حق حاصل نہیں ۔ پاکستان نے جولائی 2025 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی جوسفارتی محاذ پر ایک بڑی پیشترفت ہے ۔ اسلام آباد 22 جولائی کو کثیرالملکی تعاون پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جبکہ 23 جولائی کو فلسطین کے مسئلے پر کھلا اجلاس بلایا گیا ہے۔ اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستان کے اہم سفارتی اقدامات اور بین الاقوامی امور پر پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان میں منعقدہ اقتصادی تعاون تنظیم کے 17ویں سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جہاں انہوں نے علاقائی تعاون، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی پر پاکستان کا موٴقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔ اجلاس کا موضوع پائیدار اور ماحولیاتی لحاظ سے مزاحم مستقبل کے لیے نیا ویڑن تھا، اور وزیراعظم نے ای سی او وژن 2025 سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے سائڈ لائنز پر مختلف عالمی رہنماوٴں سے ملاقاتیں بھی کیں تاکہ دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوے ہوے ترجمان نے بتایا کہ ثالثی عدالت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے، جس کا پاکستان نے خیرمقدم کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی موٴثر اور فعال ہے، اور بھارت کو اس پر یکطرفہ اقدامات کا کوئی حق حاصل نہیں ۔ قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلہ پر بات کرتے ہوے ترجمان نے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان 2008 کے کونسلر ایکسس معاہدے کے تحت قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ یکم جولائی کو ہوا۔ پاکستان نے 246 بھارتی قیدیوں کی فہرست نئی دہلی میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی، جبکہ بھارت نے پاکستانی قیدیوں کی فہرست اسلام آباد میں پاکستانی حکام کو فراہم کی۔ پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پاکستانی قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے جولائی 2025 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ پاکستان کا موٴقف اصولوں، توازن اور موٴثر سفارت کاری پر مبنی ہوگا۔
ترجمان نے بتایا پاکستان 22 جولائی کو کثیرالملکی تعاون پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جبکہ 23 جولائی کو فلسطین کے مسئلے پر کھلا اجلاس بلایا گیا ہے۔عالمی سطح پر اہم کا میابیوں کا ذکر کرتے ہوے ترجمان نے کہا عالمی سطح پر پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی یہ رہی کہ ویانا میں پاکستان کے مستقل مندوب کامران اختر کو صنعتی ترقیاتی بورڈ کے 53ویں اجلاس کا صدر منتخب کر لیا گیا، جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ پانی کے تنازعات پر عالمی عدالت فیصلے پر بات کرتے ہوے ترجمان نے کہا کہ عالمی عدالت نے کرشن گنگا اور راتلے پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کے موٴقف کی توثیق کی ہے۔ عدالت نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس کے اختیارات برقرار ہیں اور کارروائی جاری رہے گی۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دنوں میں 38 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ ان رابطوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور آسیان فورم میں شرکت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ترجمان نے کہا پاکستان اور چین کے درمیان اقوام متحدہ سے متعلق مشاورتی مذاکرات کا پانچواں دور 6 جولائی 2025 کو منعقد ہوا۔
پاکستانی وفد کی قیادت اقوام متحدہ کے لیے خصوصی سیکرٹری سفیر نوین منیر نے کی جبکہ چینی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے بین الاقوامی تنظیمات و کانفرنسز کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل نے کی۔ مذاکرات میں دونوں فریقین نے اقوام متحدہ کے امور اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق معاملات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترجمان نے بتایا اس موقع پر پاکستانی وفد کے سربراہ، خصوصی سیکرٹری نوین منیر نے چینی نائب وزیر خارجہ سے علیحدہ ملاقات بھی کی، جس میں دونوں ممالک نے اپنے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے عالمی برادری کی توجہ ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی حالت زار کی جانب مبذول کرائی ہے۔ اس ضمن میں معروف کشمیری رہنما شبیر احمد شاہ کی صحت کی صورتحال خاص طور پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
شبیر احمد شاہ، جو آٹھ سال سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں، کو پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، جس کا جیل میں علاج ممکن نہیں۔پاکستان نے شبیر احمد شاہ کی بگڑتی صحت کے پیش نظر انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے تاہم بھارتی عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے، جس سے ان کی رہائی کی کوششوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ ترجمان نے کہا پاکستان نے بھارتی جیلوں میں قید اپنے شہریوں کی جلد واپسی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
Comments are closed.