چکوال میں طوفانی بارشوں سے تباہی، قصبہ ڈہوڈا اور مضافات میں کہرام مچ گیا
تاجران کا کڑوروں کانقصان ،سینکڑوں گھر زمین میں دھنس گئے،متعدد زمین بوس ، بچ جانے والے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں رہے ،علاقے میں سیلابی ریلہ کئی گھنٹوں تک موجود رہا ،مزید بارشوں کی پیشنگوئی سے شہری شدید خوف واذیت میں مبتلا
48گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی امدادی کاروائی نہ ہو سکی
وزیراعلیٰ مریم نواز کے دورے کے دوران سب سے زیادہ متاثرہ قصبہ ڈہوڈا نظر انداز، عوام اور تاجر بڑی امداد کا انتظار کرتے رہ گئے ،انتظامیہ نے اوکے کی رپورٹ دے کر کاغذی کارروائی پوری کردی
،علاقے کی موسمیاتی ندی میں توسیع کا کام نہ ہونے سے ہردوسرے سال سیلاب سے قصبہ ڈہوڈہ شدید متاثر، حکومت کسی بڑے سانحہ کا انتظار نہ کرے ، وزیراعلیٰ و دیگر اعلیٰ حکام علاقے آفت زدہ قرار دے فوری نقصان کا سروے کرانے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا مطالبہ
چکوال( فرحان یونس سے) ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ پنجاب کا ضلع چکوال حالیہ بارشوں سے شدید متاثر،48گھنٹے کے گزرنے کے باوجود امدادی کارروائیاں نہ ہونے کے باعث قصبہ ڈہوڈہ کے مکینوں اور تاجروں کا کروڑوں روپے کا نقصان ،مین بازار اور میں گلی شدید متاثر ،سینکڑوں گھر مسمار، بچ جانے والے گھربھی رہنے کے قابل نہیں رہے، پورا علاقہ دریا کی شکل اختیار کرگیا، کئی فٹ بڑا سیلابی ریلہ گھنٹوں تباہی کا منظر پیش کرتا رہا،ریسکیو ٹیمیں بھی موجود نہ تھیں جبکہ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چھتوں اور اونچے علاقوں میں پناہ لی علاقے کی موسمیاتی ندی میں توسیع کا کام نہ ہونے سے ہردوسرے سال بارشوں اور سیلاب سے ضلع چکوال کا قصبہ ڈہوڈہ شدید متاثر ہوتا ہے بار بار نشاندہی کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے جس کا خمیازہ ہمیشہ شہریوں اور تاجران کا بھگتنا پڑتا ہے ہمیشہ اہل علاقہ کو سیلاب اور حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے ، محکمہ موسمیات کی مزید بارشوں کی پیشگوئیوں سے اہلیان ڈہوڈہ شدید خوف میں مبتلا، حکومتی بے حسی کی شدید مذمت، احتجاج، وزیراعلیٰ مریم نواز کے دورہ کے دوران قصبہ ڈہوڈہ جو سب سے زیادہ متاثر ہوا مکمل طور پر نظر انداز کردیاگیا،انتظامیہ نے اوکے کی رپورٹ دے کر کاغذی کارروائی مکمل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث ضلع چکوال کا علاقہ ڈہوڈہ اور دیگر علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں شدید تباہی کے باوجود حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں صرف خانہ پوری تک ہی محدود رہی۔ڈوڈا کے علاقے میں متعدد مکان زمین بوس ہوگئے اور جو بچ گئے وہ بھی رہنے کے قابل نہیں رہے کسی بھی وقت زمین میں دھنس سکتے ہیں جس کی وجہ سے اہل علاقہ شدید خوف میں مبتلا ہیں۔علاقے میں برساتی ندی جس میں بارش کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کا پانی جمع ہوتا ہے عرصہ دراز سے توسیع کا کام نہ ہونے کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے
جس کی وجہ سے جب بھی بارشوں کے باعث سیلاب کی آتا ہے تو پانی اوور فلو ہونے کے باعث پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہونے سے قیمتی سازوسامان تباہ ہوجاتاہے چکوال کے تاجربھی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اپنا اربوں روپے کا نقصان کرواتے ہیں مگر حکومت اور مقامی انتظامیہ اتنی بے حس ہوچکی ہے کہ صرف کاغذی کارروائی کیلئے علاقے کے راﺅنڈ لگا کر واپس چلے ہیں اور حکام بالا کو سب اچھا کی رپورٹ دے دی جاتی ہے۔ڈوڈا اور دیگر علاقوں میں سینکڑوں مکان اس وقت تباہ ہوچکے ہیں اور باقی بچ جانے والے مکان بھی زمین بوس ہونے کے خطرے سے دو چار ہیں۔ اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز اور دیگرحکام بالا سے اپیل کی ہے کہ علاقے کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دے کر ایک جامع سروے کروایا جائے اور شہریوں اور تاجروں کے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ مریم نواز کے دورہ چکوال کے دوران قصبہ ڈہوڈا کو مکمل طور پر نظر انداز کردیاگیا وزیراعلیٰ کو دیگر علاقوں کا فضائی معائنہ کروا کے سب اوکے کی رپورٹ دے دی گئی ،قصبہ ڈہوڈا کے شہری اور تاجر مایوسی کاشکار کسی بڑی امداد کے منتظر تھے کہ وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران بڑی امداد کا اعلان ہوگا جس سے ہمارے زخموں پر مرہم رکھا جائے گا مگر انتظامیہ اور حکام نے وزیراعلیٰ کو قصبہ ڈہوڈا کے حوالے س بے خبر رکھا جس کے باعث عوام اور تاجروں میں شدید مایوسی پھیل گئی ۔اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس کے باعث پہلے سے تباہی کا شکار عوام کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے حکومت فوری اقدامات کرے اور کاغذی کارروائیوں کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے جائے تاکہ جو شہریوں اور تاجروں کے پاس جمع پونجی برائےنام رہ گئی ہیں اس کو بچایا جاسکے۔
Comments are closed.