جن سے اپنی پارٹی نہیں سنبھالی جاتی انہیں تحریک انصاف کی فکر لگی ہے‘علیمہ خانم

راولپنڈی(آن لائن)تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم نے ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ ان کے بھائی کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے جن سے اپنی پارٹی نہیں سنبھالی جاتی انہیں تحریک انصاف کی فکر لگی ہے۔ منگل کے روز توشہ خانہ کیس کی سماعت کے موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ مجھے دو تین ماہ سے جیل کے اندر نہیں جانے نہیں دیا جا رہا‘ عدالتی احکامات کے باوجود وکلا اور فیملی کو اندر نہیں جانے دیا جاتا‘ اب تو میری بہنوں کو بھی اندر جانے نہیں دیا جا رہا ہے اس وقت سابق چیئرمین کو مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے حالانکہ ٹرائل کیلئے 12 سے 14 وکلا پر مشتمل ٹیم ہوتی ہے لیکن کسی کو نہیں جانے دیا جا رہا عدالت نے گزشتہ سماعت پر حکم دیا تھا کہ فیملی اور وکلا کو اندر بلایا جائے اس کے باوجود جیل انتظامیہ عدالتی حکم کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمیں اندر نہیں جانے دیتی ایک وکیل فیصل قوسین مفتی کو جیل کے اندر جانے کی اجازت دی گئی

جرح کیلئے وکلا کی قانونی ٹیم ہوتی ہے صرف ایک وکیل اکیلا کیا کر سکتا ہے اب یہ صرف جلدی جلدی ٹرائل مکمل کرنے کیلئے یہ سب کر رہے ہیں پارٹی کو ہائی جیک کرنے کے حوالے سے سوال پر علیمہ خان نے کہا کہ انہیں کہیں آپ آ جائیں پارٹی کو سنبھال لیں تم لے لو یہ پارٹی ان سے اپنی پارٹی تو سنبھالی نہیں جاتی ان کو تحریک انصاف کی کیا فکر پڑی ہے ان کی اصل میں پارٹی ہے کون سی ان کے پاس 6 لوگ ہیں کمپنی کی طرح پارٹی چلاتے ہیں ایک بندہ اسحاق ڈار وزیر خارجہ بھی ہے اور ڈپٹی وزیر اعظم بھی‘ پھر یہی اسحاق ڈار شوگر بورڈ کا ایڈوائزر اور چئیرمین بھی ہے ایک بندے کے پاس 10/10 عہدے ہیں اگر یہ پارٹی ہوتی تو ہر بندے کے پاس ایک ایک عہدہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں چینی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے چینی کی قیمتوں پر کنٹرول اس لئے نہیں ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلی سب کی شوگر ملیں ہیں سارا شوگر ان کے کنٹرول میں ہے لوٹ مار کی کوئی کمی رہ گئی تھی تو یہ لوگ لوٹ رہے ہیں شوگر مافیا جیسے کہتے ہیں وہ اس ملک پر قابض ہیں وہ تو پیسے بنانے میں لگے ہوئے ہیں ملک میں کیا ہورہا ہے ان لوگوں کو کوئی فکر نہیں ہے انہیں صرف یہ فکر لگی ہے کہ تحریک انصاف میں کیا ہورہا ہے چینی کے بحران کے بعد گندم کا بحران آئے کسانوں کو انہوں ڈبو دیا ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ تحریک انصاف تو پارلیمنٹ میں بھی اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کر رہی حکومت تو یہ کہہ رہی ہے آئیں بتائیں کیا ایشو ہیں تو علیمہ خانم نے کہا کہ اس وقت اسمبلی کون سی چل رہی ہے جو آواز اٹھا رہے ہیں

ان کو نااہل کیا جا رہا ہے پنجاب کے ایوزیشن لیڈر کو نااہل کردیا گیا اور اب پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو نااہل کرنا چاہ رہے ہیں ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی نہیں جو جس کا دل چاہتا ہے کرتا ہے۔ دریں اثنا سابق چیئرمین کے وکیل عثمان گل نے بتایا کہ آج ہماری ضابطہ فوجداری 476 دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر تھی ہمیں اپنی درخواست کی سماعت کے لئے ہی نہیں جانے دیا گیا یہ درخواست ظہیر عباس چوہدری، عثمان گل اور خالد یوسف چوہدری نے مشترکہ طور پر دائر کی تھی یہ درخواست عدالتی احکامات کی جیل انتظامیہ کی مسلسل خلاف ورزی کے خلاف دائر کی گئی تھی اس درخواست میں عدالتی احکامات کے باوجود بیٹوں بات نہ کرانے معالج تک رسائی نہ دینا کتابیں اور کھانا کی سہولت نہ دینے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا گیا ہے آج عدالت نے اس درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کر کے جیل سپرنٹنڈنٹ سے جواب طلب کر رکھا تھا لیکن ہمیں جیل میں سماعت کے لئے ہی نہیں جانے دیا۔

Comments are closed.