راولپنڈی (آن لائن) تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کا خدشہ پہلے سے موجود تھا سابق چیئرمین کے خلاف مقدمات سمیت تحریک انصاف کے خلاف کسی بھی مقدمہ میں شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کئے جا رہے جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار ختم ہو تو وہ شہنشاہیت ہے۔ منگل کے روز توشہ خانہ کیس کی سماعت کے موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ خدشہ پہلے سے تھا دیوار پر لکھا نظر آرہا تھا ہمارے لوگوں کو نا اہل کیا جائے گا عدالتیں ہمیں مرضی کا وکیل کرنے کا وقت ہی نہیں دے رہی ہیں وقت نہیں دیا جارہا تھا کہا گیا کیس کو ختم کرنا ہے حالانکہ یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ ہمارا کیس ہماری مرضی کا وکیل لڑے فیصل آباد میں عدالت سے کہا گیا ہمیں وکیل کرنا ہے
انہوں نے اسٹیٹ کونسل مقرر کردیا انہوں نے کہا کہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کئے جارہے الیکشن کمیشن کو وضاحتیں دینے کے بجائے آئین اور قانون کو فالو کرنا چاہیئے حالانکہ الیکشن کمیشن نے نوٹس کرکے فریقین کو سننا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے جلدی دکھائی ہے جو نہیں ہونا چاہیئے تھا آرٹیکل 63 میں واضح ہے نا اہلی سے قبل فریق کو سنا جاتا ہے الیکشن کمیشن کے پاس ایسے کیسز میں 90 دن کا وقت ہوتا ہے 10 سال کی سزائیں کیا اگر عمر قید بھی ہو تو الیکشن کمیشن کو سننا پڑتا ہے
جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار ختم ہو تو وہ شہنشاہیت ہے اپوزیشن کو نا اہل کرنے سے بہتر ہے ہوش کے ناخن لیں ایک دوسرے کے گریبانوں سے ہاتھ نکالنے کا وقت ہے جن لوگوں کو سزائیں ہوئی ہیں وثوق سے کہتا ہوں یہ لوگ سیاست میں انتشار نہیں چاہتے جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ بڑی بدقسمتی ہے سابق چیئرمین کے بچوں سے ہمارا براہ راستہ رابطہ نہیں ہوتا اپنے والد کے لئے آنا انکا حق ہے اگر وہ آئے تو پر جوش استقبال کرینگے ہر کیس میں آپ سزائیں نہیں دیتے جمہوری لوگوں کے رویے کچھ اور ہوتے ہیں اب ان لوگوں کو سوچنا ہوگا جو پورے سسٹم کے رکھوالے ہیں۔
Comments are closed.