ہم نے ووٹ کی عزت بحال کرنا ہے‘ ملک کے تمام طبقے ہمارے ساتھ آئین کی بالادستی کیلئے کھڑے ہوں‘محمود اچکزئی کی اپیل

اسلام آباد(آن لائن ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کو روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملک کے تمام طبقوں کو آئین اور جمہوریت کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہم نے ووٹ کی عزت بحال کرنا ہے ہم ملک کے تمام طبقوں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ آئین کی بالادستی کیلئے کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججز ہمیں دیکھ رہے ہیں یہاں پر بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں‘ججز بتائیں کہ کیا انہوں نے آئین اور قانون کا ساتھ دینا ہے یا پھر فسطائیت کا ساتھ دینا ہے‘ باجوڑ میں قتل عام جاری ہے‘ آپریشن میں ہیلی کاپٹر استعمال کئے جارہے ہیں یہ ہیلی کاپٹر اس وقت کہاں تھے جب سوات میں ایک پوری فیملی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچایا جاسکتا تھا‘ ہمارے وسائل ہمارے خلاف استعمال کئے جارہے ہیں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے اس میں آئین اور قانون کی بادستی ہوگی اور ووٹ سے منتخب پالیمنٹ کی بالادستی ہوگی انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم جس شہر میں بھی جائیں گے ہم اس کا کالی جھنڈیوں سے استقبال کریں گے۔انہوں نے کہاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی جس شہر میں بھی جائیں گے ہمارے کارکن ان کا کالی جھنڈیوں سے استقبال کریں گے انہوں نے کہاکہ پرآمن آل پارٹیز کانفرنس کیلئے ہوٹل کے دروازے بند کرکے فسطائیت کا مظاہرہ کیا ہے اس موقع پر زبیر عمر نے کہاکہ میں نے بھی ساڑے تین سال جدوجہد کی تھی اور ہم نے اسی علاقے میں احتجاجی ریلیاں کی ہیں مگر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے

انہوں نے کہاکہ اس قسم کے حربے تو ضیا ء الحق اور مشرف کے دور میں بھی استعمال نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ یہ لاوا پک رہا ہے اور ایک دن پھٹے گا‘ اپوزیشن کو جلسے جلوس کی آزادی ہونی چاہیے اس حکومت نے عوامی مینڈیٹ کو چوری کیا ہے انہوں نے کہاکہ سندھ میں کرپشن بہت زیادہ ہے کیونکہ وہاں پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور سسٹم کو چلانے کیلئے وزیروں اور مشیروں کو مکمل آزادی دی گئی ہے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو کانفرنس کرنے دی جائے کیونکہ یہ جمہوریت کیلئے ضروری ہے۔ اس موقع پر جماعت کے لیاقت بلوچ نے کہاکہ اپوزیشن ہمیشہ حکومتی غلطیوں کی نشاندھی اور عوامی حقوق کیلئے احتجاج کرتی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی ہمیشہ پرامن سیاسی اور جمہوری مزاحمت جاری رہتی ہے مگر جب حکومت طاقت اور جبر کے ساتھ اپوزیشن کی آواز کو دباتے ہیں اور اپوزیشن کی آواز سننے کیلئے تیار نہیں ہوتی تو پھر یہ تمام آمریتیں ہمیشہ کیلئے ایک عبرت بن جاتی ہیں اور یہ جمہوری عمل جاری رہتا ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لوگ سمجھتے تھے کہ ہماری اوپر بندش ہے اس وقت پورا ملک ایک طرز کی غلامی میں دیدیا گیا ہے اور تمام سیاسی اور آئینی جدوجہد کو دیوار سے لگایا گیا ہے

اور ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کے خاندان بلک رہے ہیں ان کی آواز سننی چاہیے اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ عوام سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے یہ بندشیں اپوزیشن کی آواز کو مذید مضبوط کرے اور حکمران عبرت بنتے چلے جائیں گے انہوں نے کہاکہ حقوق بلوچستان کیلئے راستے بند کئے جارہے ہیں ان کو لاہور میں محصور کردیا گیا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو اسلام آباد آنے دیں انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اپنا قومی ،آئینی اور سیاسی کردار ادا کرے گی انہوں نے حکومت کی اقدامات کی مذمت کی اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ یہ حکومت فسطائیت اور ظلم پر اتر آئی ہے ہم اپنے آئینی حقوق کو حاصل کرنے کیلئے ہر اقدام اٹھائیں گے انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کے کسی وعدے کو نہیں مانتے ہیں یہ حکومت عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے آج عدالت کہاں ہے پارلیمنٹ کہاں ہے ہم مرجائیں گے مگر وطن کو توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے اس موقع پر سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاکہ امریکی صدر کا ایک ٹویٹ آیا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ہوا ہے ہم اس معاہدے کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق ہر صوبے کے وسائل پر اس کے عوام کا حق ہے

اور ہم صوبوں کے وسائل پر کسی صورت ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ کسی بھی صوبائی حکومت کے مفادات میں وفاقی حکومت کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے انہوں نے کہاکہ اس وقت عمران خان صرف اس وجہ سے جیل میں ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو نا پسند ہے اس کے خلاف تمام کیسز غیر قانونی ہے انہوں نے کہاکہ ابھی دہشت گردی عدالتوں سے جو فیصلے ہورہے ہیں وہ پہلے سے طے شدہ ہے بتائیں کہ عوام کدھر جائیں اس ملک سے انصاف کے نظام کو ختم کردیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ26آئینی ترمیم انصاف کا قتل ہے چیف جسٹس سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں آپ کی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا ہے کیا ہم عالمی عدالت انصاف میں چلے جائیں انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں کسی بھی اپریشن کی اجازت نہیں دیں گے حکومت ہمیں تجارت کی اجازت دیں۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.