اسلام آباد (آن لائن) تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیاگیا ، تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس 22 اگست کو منعقد ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر غور و خوص کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت بانی چیئرمین کی ہدایات کے تحت کی گئی اور مختلف سیاسی و تنظیمی امور پر مشاورت کی گئی۔سیاسی کمیٹی نے ضمنی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی-87 سے محترمہ منزا فاطمہ اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے66 سے محترمہ عین احمد کو امیدوار نامزد کر دیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ باقی نشستوں کے امیدواروں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ بانی چیئرمین نے اس موقع پر کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ضمنی انتخابات میں زمینی حقائق مختلف ہیں
، لہٰذا اس پہلو کو مدنظر رکھ کر حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔اجلاس میں پارٹی رہنماوٴں اور کارکنان کے خلاف جاری کارروائیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ علیمہ خانم کے بیٹوں کی پرتشدد گرفتاری موجودہ حکومت کے فسطائی ہتھکنڈوں کی بدترین مثال ہے، جس کی کمیٹی نے بھرپور مذمت کی۔مزید برآں، ایڈووکیٹ علی بخاری نے اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین سے ملاقات کی اور اجلاس کو آگاہ کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے قومی و صوبائی سطح پر قائد حزب اختلاف کی تقرری کے حوالے سے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ بانی چیئرمین نے کہا کہ موجودہ قائدین حزب اختلاف عمر ایوب خان (قومی اسمبلی) اورشبلی فراز (سینیٹ) کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری ہے اور جب تک پشاور ہائیکورٹ کا حکم امتناعی موجود ہے
، نئے قائدین کی تقرری موٴخر کی جائے۔تاہم عمران خان نے عندیہ دیا کہ اگر عدالتی جنگ کامیاب نہ ہو سکی تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لییمحمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لیے اعظم خان سواتیکو نامزد کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان نے واضح کیا کہ ان کی ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے مستقبل کی حکمت عملی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے یہ نام دیئے گئے ہیں۔
Comments are closed.