پی ٹی آئی دور کا بڑا اسکینڈل: کورونا معاشی پیکج میں اربوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف

اسلام آباد (آن لائن)پی ٹی آئی دورِ حکومت کا ایک بڑا اسکینڈل منظر عام پر آگیا، کورونا وائرس کے دوران ڈسکوز (بجلی تقسیم کار کمپنیوں) کے ذریعے جاری کیے گئے معاشی پیکج میں اربوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ڈسکوز کے معاشی پیکج پر خصوصی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2019 تا 2021 کورونا وبا کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتکاروں کو 106 ارب روپے کا معاشی پیکج دیا گیا، لیکن اس دوران پاور انفارمیشن کمپنی اور پاور ڈویڑن کی ہدایات کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دس لاکھ سے زائد ایسے صارفین کو پیکج میں شامل کیا گیا جو اس کے اہل ہی نہیں تھے، غیر قانونی کنکشن (کنڈا سسٹم) استعمال کرنے والے 588 صارفین کو بھی سبسڈی دی گئی،

ایک لاکھ 44 ہزار سے زائد ڈیفالٹرز کو معاشی پیکج کے تحت 1 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔رپورٹ کے مطابق 97 ہزار صارفین کو بغیر تصدیق ایک ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، کئی صنعتکاروں کے شناختی کارڈز پر ایک سے زائد کنکشن موجود پائے گئے 7 ارب 77 کروڑ روپے کی سبسڈی ایسے صارفین کو دی گئی جو مقررہ مدت کے بعد شامل کیے گئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 57 ہزار صارفین کو پیکج میں شامل کیا گیا حالانکہ وہ بعد میں کنکشن لینے والے تھے * 11 ہزار سے زائد صارفین کے مستقل پتے کا ریکارڈ دستیاب ہی نہیں۔

مزید انکشاف ہوا کہ مجموعی طور پر معاشی پیکج میں 2 ارب 43 کروڑ روپے کی اضافی سبسڈی بھی غلط طریقے سے دی گئی۔ماہرین کے مطابق یہ اسکینڈل نہ صرف بجلی کے شعبے کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان بھی پہنچا ہے۔

Comments are closed.