پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں اکیس مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ، مختلف شعبوں میں چار عشاریہ دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی
بیجنگ (آن لائن) پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں اکیس مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا ہے ۔ مفاہمتی یاداشتوں اور معا ئدوں کے تحت مختلف شعبوں میں چار عشاریہ دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی ۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری ، لوہے سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے ۔ بی ٹو کانفرنس ہماری اقتصادی ترقی کا لانگ مارچ ثابت ہو گی ، جو اپنی منزل پر پہنچ کر دم لے گا ۔ یقین ہے پختہ عزم اور محنت سے اپنے اہداف حاصل کر کے رئیں گے ۔ پاک چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہو انہوں نے کہا پاک-چین دوستی آزمائش کی ہر گھڑی میں پوری اتری ہے، یہ دوستی سمندر سے گہری ، لوہے سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے ۔
دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط تعلقات بھروسے، احترام اور عملی تعاون پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کانفرنس میں شرکت باعث افتخار ہے۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی اور اہم ترین کانفرنس ہے جس میں شرکت باعثِ افتخار ہے۔ یہ کانفرنس پاک چین دوستی کی گہرائی اور معاشی اشتراک کی گواہی ہے۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے 2015 میں دورہ پاکستان کو سی پیک کی بنیاد قرار دیتے ہوے کہا سی پیک کے تحت اب تک 35 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، جس سے پاکستان وانائی کے شعبے میں خود کفیل ہوا اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے تعاون سے پاکستان میں اورنج لائن ٹرین، ڈیمز، سڑکیں اور دیگر اہم منصوبے مکمل ہوئے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان چین کی ٹیکنالوجی سے زراعت سمیت مختلف شعبوں میں مستفید ہو رہا ہے۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی ٹی، زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔
خصوصی اقتصادی زونز چینی صنعتوں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتے ہیں، جہاں سستی لیبر اور سازگار ماحول دستیاب ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا چینی شہریوں اور سرمایہ کاروں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ یقین دلاتا ہوں میں ذاتی طور پر چینی سرمایہ کاروں کے مسائل کے حل کے لیے دستیاب ہوں۔ پاکستان میں چینی بھائیوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا چین کو پاکستان کا دوسرا گھر ہے ۔ چین کی ترقی، انتظامی مہارت اور وڑن ہمارے لیے رول ماڈل ہے۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور ہم اس سے سیکھ کر اپنے اقتصادی
مستقبل کو روشن بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان چین کے ساتھ دوسرے مرحلے میں تعاون چاہتا ہے ۔ پاکستان کی معیشت بہتری جانب گامزن ہے ۔ سی پیک سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت ملی ۔ دریں اثنا کانفرنس کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان چار اعشاریہ دو ارب ڈا لر کی سرمایہ کاری کے اکیس معائدوں اور یاد داشتوں پردستخط ہو ے ۔
کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوے وزیاراعظم نے کہا سرمایہ کاروں کے درمیان مفا ہمتی یادادشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو گا ۔ ایس آئی ایف سی ، سرمایہ کاری بورڈ سمیت مختلف اداروں کی تعریف کرتے ہوے انہوں نے کہا کاروباری برادری کے درمیان مختلف شعبو ں میں تعاون لائق ت تحسین ہے ۔ انہوں نے کہا یہ کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان اقتاصادی ترقی کے لانگ مارچ کا آغاز ہے ، جو پختہ عزم اور محنت کے سا تھ منزل تک پہنچ کر دم لے گا ۔ انہون نے کہا یقین ہے ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو ں گے ۔
Comments are closed.