وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پالیسی بنانے کی ہدایت کردی ہے اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریلیف آپریشن جاری ہے، دعا ہے سندھ میں سیلاب سے زیادہ نقصان نہ ہو‘ موسمیاتی چیلنجز کے حوالے سے وزیر اور ان کے سیکریٹری کی ذمہ داری لگائی ہے کہ آپ نے ایک پروگرام کے ساتھ آنا ہے، راتوں رات موسمیاتی تبدیلیوں کو ہم راتوں رات نہیں نمٹ سکتے اور اس میں پاکستان اکیلا کچھ نہیں کرسکتا، سب کو ملکر کرنا ہوگا لیکن ہمارے پاس ایک روڈ میپ ہونا چاہیے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم افواج پاکستان کی قربانیوں کی بدولت آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اداروں اور شہدا کی تضحیک کررہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور ملک کیخلاف پروپیگنڈا کرنے والے فتنے کا مکمل خاتمہ کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ملک کے اندر زہریلا پروپیگنڈا کررہے ہیں اور سوشل میڈیا پر شہدا کی قربانیوں اور اداروں کی تضحیک کررہے ہیں، اس کی جتنی سخت الفاظ میں مذمت کی جائے وہ ناکافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی جذبہ ہے جو پاکستان کو خوارج سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے، وہ اپنے ماں باپ اور بچوں کو یہ بتاکر جاتے ہیں کہ ہم اپنے وطن کے دفاع کے لیے جارہے ہیں تو ان کی بیویوں اور بچوں کی کیفیت کو سمجھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا آج فرض اولین ہے کہ ہم اس ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے فتنہ کا مکمل طور پر خاتمہ کریں، چاہے وہ ملک میں ہوں یا پھر سوشل میڈیا پر بیرون ملک بیٹھے آپریٹ کررہے ہیں، ان کی شناخت کریں، نفرت کارڈ ناقابل قبول ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات بھی بنانے ہیں اور چین کے ساتھ جو اسٹریٹیجک پارٹنرشپ ہے اس میں بھی مزید بہتر کرنا ہے جب کہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں معاہدے ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب نے پنجاب، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں بہت تباہی مچائی ہے اور اب پانی سندھ میں داخل ہورہا ہے، موسمیاتی چیلنجز کے حوالے سے وزیر اور ان کے سیکریٹری کی ذمہ داری لگائی ہے کہ آپ نے ایک پروگرام کے ساتھ آنا ہے، راتوں رات موسمیاتی تبدیلیوں کو ہم راتوں رات نہیں نمٹ سکتے اور اس میں پاکستان اکیلا کچھ نہیں کرسکتا، سب کو ملکر کرنا ہوگا لیکن ہمارے پاس ایک روڈ میپ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ذراعت میں جو نقصان ہوا ہے اس کے لیے میں نے ذمہ داری لگائی ہے، اگلے ہفتے ہی سامنے آجائے گا کہ چاول، گنا، کاٹن میں کیا نقصانات ہوئے ہیں، اس حوالے سے اگلے اجلاس میں تفصیلات بھی پیش کروں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ آج کابینہ مشاورت کے بعد ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان کررہی ہے اور ساتھ ہی احسن اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، جس میں متعلقہ وزرا اور سیکریٹریز ہوں گے، تاکہ اس پر کام شروع کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ جہاں وفاق اس میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے، وہی صوبوں کو بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، یہ ملکر ہی ہم اس نقصان کا ازالہ کرسکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کل قطر میں اسرائیل نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے ایک قطر پر جو حملہ کیا، اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا افواج پاکستان کی قربانیوں کے طفیل ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں ۔ باتیں کرنا بہت آسان ہے جو و طن کی خاطر جانوں نذرانے پیش کر رہے ہیں انکے اہل خانہ کی کیفیت ان سے پوچھیں تو حقیقت پتہ چلتی ہے ۔ جو لوگ ان قربانیوں کی تذلیل میڈیا پر کرتے ہیں اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فتنے اور دہشتگردی کی بیخ کنی کرنا ہمارا قومی اور ملی، سیاسی اور اخلاق فرض ہے ۔ حالیہ دورہ چین کو انتہائی کا میاب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا میرا حالیہ دورہ چین بہت کامیاب رہا، کامیاب دورہ چین پر کابینہ کے تمام ممبران کو مبارکباد دیتا ہوں، دورہ چین کے دوران بزنس کانفرنس انتہائی مفید اورموٴثر رہیں، دورہ چین کے دوران ایس سی او اجلاس میں شرکت اور دوطرفہ ملاقاتیں کیں، چین اقتصادی اور عسکری قوت بن چکا ہے، جس کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چین اقتصادی اور عسکری قوت بن چکا جس کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے ، سی پیک فیز ٹو کے خدوخال م زراعت ، بی ٹو بی انوسٹمنٹ خصوصی اقتصادی زونز کے کے ایچ کے فنانشل ماڈل کا اعلان کیا جائے گا ۔ منصوبوں میں پچاسی فیصد سرمایہ کاری چین اور پندرہ فیصد سرمایہ کاری پاکستان کرے گا ۔ دورے کے دوران آٹھ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے ۔ ترقیاتی منصوبوں سست روی اور تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ ایمانداری محنت اور لگن سے ہی دنیا میں نام کمایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کے معا ئدے ہوے ہیں ۔ ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بہتر ی کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ ہمیں امر یکہ کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور چین کے ساتھ تذ یراتی شراکت د اری کے فروغ کے لئے کام کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کے ساتھ تعلقات مین توازن برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ ملک میں سیلابی کیفیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا حالیہ بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔

گلگت بلتسان آ، زادکشمیر پنجاب اور کے پی کے میں ن نقصانات ہو ئے ہیں ۔ اب سندھ کی وادیوں میں پانی داخل ہو رہا ہے ۔ غیر معمولی بارشیں اور سیلاب موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز ہیں ۔ انہو ں نے کہا فصلوں کے نْصانات کا تخمینہ لگا کر کابینہ میں بات کی جائے گی سیلا ب سے ایک ہزار افراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔ وفاق اور صوبے مل کر نقصانات کا ازالہ کریں گے ۔ وزیر اعظم نے کلائمیٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمر جنسی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر احسن ا قبال کی زیر قیادت کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ چاروں صوبوں کے وزرا، اور چیف سیکرٹیریز اس کا حصہ ہو ں گئے ۔ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں دوحا قطر میں ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کو بدترین بربریت اور سفاکیت قرار دیا۔اس موقع پر انہوں نے بحری امور کے وزیر چوہدری ملک انوار اور سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی والدہ کی رحلت پر تعزیت بھی کی۔

Comments are closed.