میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کا 60واں یومِ شہادت عقیدت واحترام سے منایا گیا ، قوم کا عظیم ہیرو آج بھی دلوں میں زندہ، ملک بھر میں قرآن خوانی، دعاوٴں اور عقیدت سے بھرپور تقریبات کا اہتمام

اسلام آباد (آن لائن) جنگِ ستمبر 1965ء کے عظیم ہیرو، نشانِ حیدر پانے والے میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کا آج 60واں یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔اس موقع پر ملک بھر میں قرآن خوانی، دعاوٴں اور عقیدت سے بھرپور تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔دن کا آغاز مختلف مساجد میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاوٴں سے ہوا۔ وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اس بہادر سپوت کی قربانی آج بھی دشمن کے لیے ایک "کاری ضرب” اور قوم کے لیے فخر کا استعارہ ہے۔ 1965ء کی جنگ میں جب بھارت نے پاکستان پر اچانک حملہ کر کے سرپرائز دینے کی کوشش کی تو میجر راجہ
عزیز بھٹی جیسے ہیروز نے دشمن کو ایسا جواب دیا کہ وہ خود حیرت زدہ رہ گیا۔ آپ واہگہ سیکٹر کے برکی علاقے میں کمپنی کمانڈر کے طور پر تعینات تھے، جہاں BRB نہر کے دفاع کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر تھی۔ 6 تا 10 ستمبر کے دوران، میجر عزیز بھٹی نے انتہائی ہمت، جرات اور قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے بکتر بند حملوں کو روکا اور کئی حملے پسپا کیے۔ آپ نہ صرف دفاعی پوزیشن پر جمے رہے بلکہ دشمن پر جوابی کارروائی بھی کی۔ BRB نہر پر واحد پْل پر قابض دشمن کو پیچھے دھکیل کر اسے شدید نقصان پہنچایا۔ 12ستمبر کو میجر راجہ عزیز بھٹی خود دشمن کے آگے بڑھے بکتر بند اور پیدل دستوں پر گولہ باری کروا رہے تھے، جس کے نتیجے میں دشمن کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔

آپ نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مسلسل دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور اْسے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اِسی دوران ا?پ کو دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ براہِ راست آ لگا جس کی وجہ سے آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کی اس عظیم قربانی نے دشمن کی لاہور کی جانب پیش قدمی کو روک دیا۔میجر عزیز بھٹی شہید نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ایک سچا سپاہی دشمن کے سامنے نہ جھکتا ہے، نہ گھبراتا ہے، بلکہ ملک و ملت کے دفاع کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہتا ہے۔قوم آج اس عظیم شہید کو سلام پیش کرتی ہے۔ نشانِ حیدر حاصل کرنے والے عظیم سپاہی میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کے 60ویں یومِ شہادت کے موقع پر ملک بھر میں قرآن خوانی، دعاوٴں اور عقیدت سے بھرپور تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

دن کا آغاز مختلف مساجد میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاوٴں سے ہوا، جن میں علماء کرام، افواج پاکستان کے سابق و حاضر افسران، طلباء نوجوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر علماء کرام نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا، شہداء کی قربانیاں ہم سب پر قرض ہیں۔ زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں۔علماء نے مزید کہا کہ شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں، اور میجر عزیز بھٹی شہید کی قربانی افواج پاکستان کی مادرِ وطن کے لیے بے مثال خدمات کی روشن علامت ہے۔میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی جْرات و بہادری، وطن سے وفا اور قربانی کو یاد کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ پاکستان کے یہ درخشندہ

Comments are closed.