سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معائدہ خالصتاََ دفاعی نوعیت کا ہے ، کسی تیسرے ملک کے خلا ف نہیں ، پاکستان

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معائدہ خالصتاََ دفاعی نوعیت کا ہے ، معائدہ کسی تیسرے ملک کے خلا ف نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے مشترکہ دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے اور سالمیت کے دفاع کے عزم کا عکاس ہے ، پاک ، سعودیہ قیادت دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتی ہے، بگرام کا معاملہ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکومت کا باہمی معاملہ ہے، ہم اْن ملکوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، پاکستان مسلم دنیا کے اتحاد، مشترکہ سلامتی اور انسانی بحرانوں کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا قطر پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں ، اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کے خاتمے کے لئے پا پاکستان ہر فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا ۔ تر جمان دفتر خارجہ شفقت علی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر مملکت سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

اس معاہدے کی رو سے اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو وہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان غیر معمولی دفاعی اعتماد اور اشتراک کی عکاسی کرتا ہے۔وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبدالعزیز کی صحت اور خیریت کے لیے نیک تمناوٴں کا اظہار بھی کیا۔نہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات منفرد اور دیرینہ ہیں، دونوں ممالک کی قیادت ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ دونوں ممالک کا مشترکہ دہشتگردی سے نمٹنے اور سالمیت کے تحفظ کا عکاس ہے ۔ فتنہ الخوارج سے متعلق وزیر اعظم کے بیان پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم کا بیان نہایت واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی والے تعلقات چاہتے ہیں۔ یہ بیان افغانستان کو سفارتی ذرائع سے بھجوایا گیا ہے۔ نمائندہ خصوصی صادق خان کا دورہ معمول کا ہے، جونہی ان کا نیا دورہ افغانستان طے ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بگرام ایئربیس سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بگرام کا معاملہ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکومت کا باہمی معاملہ ہے، ہم اْن ملکوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ وزیر خارجہ نے حال ہی میں دوحہ میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دوحہ میں ہنگامی او آئی سی سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کے اتحاد، مشترکہ سلامتی اور انسانی بحرانوں کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ترجمان نے قطر پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوے اسرائیلی جارحیت کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا پاکستان نے قطر کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ، وزیر خارجہ اور مسلح افواج کے سربراہ دوحہ میں موجود تھے، جہاں پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام سے بھرپور یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قطر کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ ترجمان نے کہا وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے حالیہ دنوں میں مصری وزیر خارجہ، جرمن وزیر خارجہ اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے۔ 13 ستمبر کو امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے نائب وزیراعظم سے رابطہ کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ 16 ستمبر کو جرمن وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے ٹیلیفون رابطہ ہوا۔ گزشتہ روز مصری وزیر خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کو حالیہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر مبارکباد دی۔

دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی و عالمی امور، امن، استحکام اور اقتصادی ترقی پر زور دیا اور کثیرالجہتی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اسلامی ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے، بین الاقوامی پانیوں میں امدادی بحری بیڑے (فلوٹیلا) کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت مخالف ہے۔ ترجمان ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ بین الاقوامی پانیوں میں امن اور انسانی امداد کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا حملے سے گریز کیا جائے۔ترجمان نے کہا کہ صدر پاکستان ان دنوں چین کے سرکاری دورے پر ہیں، جہاں وہ شنگھائی اور چنگڈو کے دورے مکمل کر چکے ہیں۔ اس دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینا اور اقتصادی و تعلیمی تعاون کو وسعت دینا ہے۔

Comments are closed.