نیویارک (آن لائن) تقریباً 10 ممالک جن میں آسٹریلیا، بیلجیم، برطانیہ اور کینیڈا شامل ہیں، آئندہ پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل ہونے والی ایک سمٹ میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔یہ اقدام اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے پر عالمی سطح پر اہم سیاسی اثر ڈال سکتا ہے۔فلسطینی آزادی تنظیم (PLO) نے 1988 میں آزاد فلسطینی ریاست کا اعلان کیا تھا اور آج تک 193 میں سے 147 رکن ممالک اس کو تسلیم کر چکے ہیں۔
تاہم فلسطین کو اقوام متحدہ میں مشاہدہ کار کا درجہ حاصل ہے، ووٹنگ کا حق نہیں۔فلسطینی اتھارٹی (PA) جزوی طور پر مغربی کنارے میں خود مختاری رکھتی ہے، پاسپورٹ جاری کرتی ہے اور تعلیم و صحت کا نظام چلاتی ہے، جبکہ غزہ 2007 سے حماس کے زیرانتظام ہے۔ برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور بیلجیم جیسے مغربی ممالک نے کہا ہے کہ تسلیم کرنے کا مقصد اسرائیل پر دباوٴ ڈالنا ہے تاکہ غزہ پر حملوں کو ختم کیا جائے مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیاں روک دی جائیں امن عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ یہ اقدام فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی شرط کے ساتھ ہوگا تاکہ وہ غزہ کے بعد زیادہ موٴثر اور معتبر حکمرانی فراہم کر سکے۔
Comments are closed.