وزیراعظم سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ورلڈ بینک گروپ کے صدر کی ملاقات

نیویارک(آن لائن) وزیراعظم محمد شہبازشریف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر ورلڈ بینک گروپ  کے صدر اجے بنگا کی ملاقات ہوئی۔شہبازشریف نے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے نے پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کی طرف گامزن کیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا اور پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دیا۔ وزیر اعظم نے آپریشنز کو آسان بنانے اور نجی شعبے میں وسائل کو مزید متحرک کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ورلڈ بینک کو تیز تر اور زیادہ موثر ترقیاتی شراکت دار میں تبدیل کرنے پر اجے بنگا کی قیادت کی تعریف کی۔ صدر ورلڈ بینک نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے تعاون کے حوالے سے بینک کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے خاص طور پر COVID-19 اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے لیے بینک کی دیرینہ حمایت کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے عالمی بینک کے صدر کو حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس میں وسائل کو متحرک کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے حوالے سے اقدامات شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈے نے پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کی طرف گامزن کیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا اور پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دیا۔ وزیر اعظم نے ورلڈ بینک کے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2026-2035) کی بھی تعریف کی، جس کے تحت عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 40 بلین امریکی ڈالر کا تاریخی اور بے مثال وعدہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے حوالے سے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ صدر ورلڈ بینک نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے تعاون کے حوالے سے بینک کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقتصادی اصلاحات کے فروغ اور CPF کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے طویل مدتی و پائیدار اقدامات کے لیے مسلسل تعاون بڑھانے میں بینک کے پرزور عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Comments are closed.