سپریم کورٹ آئینی بنچ میں 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران ججز نے اہم ترین سوالات اٹھادیئے

اسلام آباد( آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران ججز نے اہم ترین سوالات اٹھائے ہیں جس میں پوچھاگیاہے کہ دائرہ اختیار کو چھوڑیں، ہمیں ایسا راستہ بتائیں جس میں تمام ججز بینچ میں بیٹھ جائیں۔ کیافل کورٹ بنچ کی تشکیل کاحکم آئینی بنچ کے دائرہ کارمیں آتاہے یانہیں؟ ،اگروہ حکم جاری کریں توکس کوکریں؟ چیف جسٹس پاکستان ،رجسٹرار یاپھردوبنائی گئی کمیٹیوں کوحکم جاری کریں گے؟ ،اگرآئینی بنچ کوتسلیم کرتے ہوئے دلائل دیے جارہے ہیں توپھرآئینی بنچ کو26ویں آئینی ترمیم کے متعین دائرہ کارمیں رہتے ہوئے ہی کام کرناہوگا،کیاجوڈیشل آرڈرہی ایڈمنسٹریٹوآرڈرہوگا،عدالتی اختیاراور عدالتی دائرہ اختیار سماعت کی تشریح کیسے ہوگی؟ ،کیا آئینی ترمیم کو چیلنج کیاگیا، فل کورٹ ترمیم کی موجودگی میں تشکیل ہو سکتا ہے؟ کیا چیف جسٹس آرڈر جاری کر سکتے کہ کوئی کیس فل کورٹ سنے گا؟جبکہ سینئر قانون دان منیراے ملک کااستدلال یہ ہے کہ فرق نہیں پڑتا موجودہ بنچ ریگولر ہے یا آئینی کیس سننے کا فیصلہ موجودہ بنچ کر سکتا ہے، کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی، آئینی بنچ کے پاس جوڈیشل اختیارات ہیں، عدالتی اختیارات اور عدالتی دائرہ اختیار دو الگ چیزیں ہیں،سپریم کورٹ تو فل کورٹ ہے، آئینی بنچ سپریم کورٹ کا تراشا ہوا محکمہ ہے۔

بطور سپریم کورٹ جج جوڈیشل آرڈرجاری کیاجاسکتاہے اس کے لیے کسی کوحکم دینے کی ضرورت نہیں ہے ،ہمیں اصل آئین کے تحت حاصل سپریم کورٹ کے اختیارات کے تحت ہی ریلیف مل سکتاہے او رموجودہ بنچ جوڈیشل آرڈرکے ذریعے فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کے احکامات جاری کرسکتاہے۔ آئینی بنچ کو سپریم کورٹ کا بنچ ہی سمجھتا ہوں،موجودہ بنچ کے پاس جوڈیشل اختیارات موجود ہیں۔جوبھی ججزاس وقت موجودہیں ہمیں صرف سپریم کورٹ کواس کی ججزکی مقررہ تعدادکے تحت ہی دیکھناہے۔انھوں نے یہ دلائل جمعرات کے روزدیے ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا موجودہ 8رکنی بنچ فل کورٹ تشکیل دینے کا دائرہ اختیار رکھتا ہے،وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ فرق نہیں پڑتا موجودہ بنچ ریگولر ہے یا آئینی کیس سننے کا فیصلہ موجودہ بنچ کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ آئینی بنچ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی۔وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ فل کورٹ کیلئے موجودہ بنچ کی جانب سے ڈائریکشن دیئے جانے کی استدعا ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ فل کورٹ تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا موجودہ 8رکنی بنچ فل کورٹ تشکیل دینے کا دائرہ اختیار رکھتا ہے

،وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ فرق نہیں پڑتا موجودہ بنچ ریگولر ہے یا آئینی کیس سننے کا فیصلہ موجودہ بنچ کر سکتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ اگر ہم جوڈیشل آرڈر جاری کریں تو آپ ایڈمنسٹریٹو آرڈر کہیں گے،کیا ایسے آرٹیکل 191اے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی، آئینی بنچ کے پاس جوڈیشل اختیارات ہیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں کہ آئینی بنچ جوڈیشل اختیارات کااستعمال کرکے فل کورٹ تشکیل دے؟عدالت نے کئی بار ترمیم کے بجائے آئین پر انحصار کیا ہے،آپ اسی ترمیم پر انحصار کررہے ہیں جس کو آپ چیلنج کررہے ہیں۔ وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ عدالتی اختیارات اور عدالتی دائرہ اختیار دو الگ چیزیں ہیں،سپریم کورٹ تو فل کورٹ ہے، آئینی بنچ سپریم کورٹ کا تراشا ہوا محکمہ ہے۔وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ فل کورٹ کیلئے موجودہ بنچ کی جانب سے ڈائریکشن دیئے جانے کی استدعا ہے،

جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ فل کورٹ تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا موجودہ 8رکنی بنچ فل کورٹ تشکیل دینے کا دائرہ اختیار رکھتا ہے،وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ فرق نہیں پڑتا موجودہ بنچ ریگولر ہے یا آئینی کیس سننے کا فیصلہ موجودہ بنچ کر سکتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ اگر ہم جوڈیشل آرڈر جاری کریں تو آپ ایڈمنستریٹو آرڈر کہیں گے،کیا ایسے آرٹیکل 191اے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی، آئینی بنچ کے پاس جوڈیشل اختیارات ہیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں کہ آئینی بنچ جوڈیشل اختیارات کااستعمال کرکے فل کورٹ تشکیل دے؟عدالت نے کئی بار ترمیم کے بجائے آئین پر انحصار کیا ہے،آپ اسی ترمیم پر انحصار کررہے ہیں جس کو آپ چیلنج کررہے ہیں، عدالت کئی بار کہہ چکی چیلنج شدہ ترمیم نہیں، اصل آئین پر انحصار کیا جائے گا۔ وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ عدالتی اختیارات اور عدالتی دائرہ اختیار دو الگ چیزیں ہیں،سپریم کورٹ تو فل کورٹ ہے، آئینی بنچ سپریم کورٹ کا تراشا ہوا محکمہ ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آرٹیکل 191اے نے کیا دائرہ اختیار واپس نہیں لے لیا؟

وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ دائرہ اختیار بے شک ختم ہو لیکن جوڈیشل اختیارات موجود ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ میرے خیال میں ان ججز کو بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہئے کی تقرری 26ویں ترمیم کے بعد ہوئی۔دورا ن سماعت جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ دائرہ اختیار کیس کے میرٹ میں آتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کیا چیف جسٹس آرڈر جاری کر سکتے کہ کوئی کیس فل کورٹ سنے گا؟وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ کوئی بھی بنچ جوڈیشل آرڈر پاس کر سکتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ آئینی ترمیم کو چیلنج کیاگیا، فل کورٹ ترمیم کی موجودگی میں تشکیل ہو سکتا ہے؟جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ جوڈیشل اختیارات کو دیکھنا ہے تو آرٹیکل 191اے کو نہیں دیکھنا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ اگر آرٹیکل 191اے کو نظرانداز کردیں تو ہم عدالت میں بیٹھے ہی کیوں ہیں،وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ آئینی بنچ کو سپریم کورٹ کا بنچ ہی سمجھتا ہوں،موجودہ بنچ کے پاس جوڈیشل اختیارات موجود ہیں،جسٹس امین الدین نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن نے موجودہ بنچ تشکیل دیا، جو ججز دستیاب تھے

ان پر مشتمل بنچ قائم کیاگیا، جسٹس جمال مندوخٰیل نے کہاکہ جوڈیشل کمیٹی کوئی بھی بنچ تشکیل دے سکتی ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ موجودہ بنچ اپنے دائرہ اختیار پر کیسے فیصلہ کرے؟پہلے دیکھنا پڑے گا 26ویں آئینی ترمیم کیوں ہوئی، میرے خیال میں ان ججز کو بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہئے جن کی تقرری 26ویں ترمیم کے بعد ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہم 26ویں ترمیم سے پہلے کے ہیں،کیا نئے ججز کسی اور ملک سے لگائے گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ 26ویں ترمیم سے نئے ججز کا تعلق نہیں، ججز کی تعداد تبدیل نہیں ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ حالیہ مقرر ہونے والے 4ججز ہائیکورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ میں نے غلط سوچ کے ساتھ ایسا نہیں کہا، ایسا تاثر دیا جارہا ہے جیسے میں نے غلط سوچ کیساتھ کہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ججز قابل احترام ہیں ،ججز کو نہ رگڑاجائے۔جوڈیشل کمیشن کے ہر اجلاس میں انہوں نے اور چیف جسٹس نے مطالبہ کیا آئینی بینچ میں تمام ججز کو شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دائرہ اختیار کو چھوڑیں، ہمیں ایسا راستہ بتائیں جس میں تمام ججز بینچ میں بیٹھ جائیں۔منیراے ملک کے دلائل مکمل ہونے کے بعدسماعت پیرکے روزتک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

Comments are closed.