واشنگٹن ڈی سی (آن لائن) وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے دوران اپنے دورہ امریکہ میں متعدد اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان کی معاشی اصلاحات کے تسلسل، بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فروغ، اور دوطرفہ مالی تعاون کو مزید مستحکم بنانا تھا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی وزیرِ خزانہ محمد عبداللہ الجدعان سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سعودی ہم منصب کو قومی ایئر لائن پی آئی اے اور ہوائی اڈوں کی نجکاری سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا اور پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔محمد اورنگزیب نے سعودی عرب سے پاکستان کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے تعاون کی خواہش کا اظہار کیا اور آئی ایم ایف پروگرام کے اصلاحاتی ایجنڈے پر مکمل عمل درآمد کے عزم کو دہرایا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) کے چیف ایگزیکٹو بینجمن بلیک سے ملاقات میں توانائی، معدنیات، زراعت، آئی ٹی اور دواسازی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی۔ وزیرِ خزانہ نے باور کرایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ پر قیادت کی سطح پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔
دورانِ اجلاس، وزیرِ خزانہ نے آذربائیجان کے نائب اول وزیرِ خزانہ انار کریموف سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے مضبوط تزویراتی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے پاکستان، آذربائیجان ترجیحی تجارتی معاہدے (جنوری 2025) اور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے (دسمبر 2024) کو دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے کلیدی قرار دیا۔ محمد اورنگزیب نے میگا کے ایگزیکٹو نائب صدر ہیروشی ماتانو سے ملاقات کی اور جاری ثالثی معاملات میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ وزیرِ خزانہ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور قومی مفاد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے میگا کی جانب سے قلیل مدتی تجارتی فنانس سہولت کے مجوزہ منصوبے کا خیر مقدم کیا، جس کے تحت خوراک، کھاد، توانائی اور مشینری کی درآمدات میں مدد ملے گی۔وزیرِ خزانہ نے باروارز فورم راوٴنڈ ٹیبل میں شرکت کرتے ہوئے قرضوں کی ادائیگیوں اور سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے درمیان توازن کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بہتر قرض نظم و نسق، تکنیکی استعداد میں اضافے اور پائیدار مالی وسائل تک رسائی کو کلیدی قرار دیا تاکہ موسمیاتی استحکام اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ممکن ہو۔محمد اورنگزیب نے پاکستان بینک فنڈ اسٹاف ایسوسی ایشن کے اراکین سے ملاقات میں مالیاتی، مانیٹری اور بیرونی شعبوں میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگ، مالیاتی نظم و ضبط، توانائی اصلاحات، نجکاری، اور سماجی تحفظ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
وزیرِ خزانہ نے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقات میں پاکستان اور بینک کے دیرینہ تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے پانڈا بانڈ کے اجرا اور مستقبل میں یوروبانڈز و بین الاقوامی سکوک کے ذریعے سرمایہ مارکیٹوں میں داخلے کے منصوبوں پر بات کی۔دن کے آغاز میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے کوئیلشن آف فنانس منسٹرز فار کلائمیٹ ایکشن کے اجلاس میں شرکت کی اور برطانوی ماہرِ معاشیات اسٹیفن ڈرکون سے ملاقات کی۔ انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ میڈیا انٹریکشن میں بھی حصہ لیا۔دورے کے اختتام پر وزیرِ خزانہ نے پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں ممتاز پاکستانی کاروباری شخصیات سے ملاقات کی۔ وزیرِ خزانہ نے معیشت میں استحکام، ٹیکسیشن نظام کی اصلاح، توانائی و نجکاری اقدامات، اور کاروباری ماحول کی بہتری پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا ذکر کیا، جبکہ کاروباری برادری نے حکومت کے معاشی ویژن پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
Comments are closed.