علیمہ خانم کے چوتھی بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اور ضامن کو بھی شوکاز نوٹس جاری

راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد کے مقدمہ میں نامزد سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی مسلسل عدم حاضری پر ان کے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور مقدمے میں شامل 4 گاڑیوں کے 85 لاکھ روپے مالیت کے شورٹی بانڈز بھی بحق سرکار ضبط کر نے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ملزمہ کو دو نئے ضمانتی بانڈز اور 10 لاکھ روپے فی کس کے دو نئے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے عدالت نے ملزمہ کے ضامن عمر شریف کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے ملزمہ کی گرفتاری و حاضری پر ایس پی راول ڈویژن اور ڈی ایس پی وارث خان نعیم کو بھی توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے چوتھی مرتبہ علیمہ خانم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے ہیں۔

گزشتہ روز سماعت کے موقع پر 3 مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود علیمہ خانم عدالت پیش نہیں ہوئیں جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر 10 ملزمان عدالت میں موجود تھے۔ دوران سماعت سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر پولیس کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی گئی کہ ملزمہ گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو چکی ہے جس پر سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے نشاندہی کی کہ ایک روز قبل ملزمہ اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہیں اور انہوں نے میڈیا سے گفتگو بھی کی جس پر عدالت نے پولیس کی رپورٹ کو بوگس قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزمہ روپوش ہے تو اڈیالہ جیل کے باہر انکی میڈیا سے گفتگو کیسے نشر ہوتی ہے عدالت نے قرار دیا کہ پولیس نے عدالت کو دھوکہ دیا ہے

عدالت نے پولیس رپورٹ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی احکامات اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود ملزمہ کو پیش نہ کرنے پر ایس پی راول ڈویژن سعد ارشد اور ڈی ایس پی نعیم کو توہین عدالت پر شوکاز نوٹس جاری کردئیے اور دونوں پولیس افسران کو 24 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے اس موقع پر عدالت نے مقدمے میں شامل 2 ہائی ایس وین اور 2 کوسٹرز پر مشتمل 4 گاڑیوں کے مجموعی طور پر 85 لاکھ روپے کے شورٹی بانڈز بھی بحق سرکار ضبط کر لئے ہیں اور گاڑیوں کے مالکان کو نوٹس جاری کر دیا ہے کہ کیوں نہ یہ رقم ان سے وصول کی جائے مذکورہ گاڑیوں کے مالکان نے عدالت سے سپرداری حاصل کر رکھی تھی اس ضمن میں عدالت نے آئی جی خیبر پختونخوا اور آئی جی بلوچستان کو گاڑیاں ضبط کر کے عدالت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

Comments are closed.